خطبات محمود (جلد 17) — Page 711
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ اس مطالبہ کو پورا کرتا ہے وہی خدا تعالیٰ کی برکتوں سے حصہ لیتا ہے اور دوسرا شخص جو کمزوری دکھا تا تای ہے اور شرطیں لگاتا ہے اسے خدا کی درگاہ سے باہر نکال دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی روحانی کی حالت محض ایک نمونہ کے طور پر تھی۔جس طرح ایک مٹھائی والا گا ہک پیدا کرنے کیلئے تھوڑی ہے تھوڑی مٹھائی لوگوں کو کھلاتا ہے اور اُس کے بعد امید کرتا ہے کہ لوگ اسے پیسے دے کر خریدیں گے اسی طرح ایسی جماعتوں کے ابتدائی فیوض اور ابتدائی مدارج بطور اس نمونہ کے ہوتے ہیں جو مٹھائی فروش گا بک کو چکھاتا ہے اور جسے پنجابی میں ”وندگی کہتے ہیں۔جو شخص ساری عمر اسی طرح نمونہ کی مٹھائی لے کر کھانا چاہے دکاندار کبھی اُسے قریب بھی آنے نہیں دیں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اُن اشخاص کو جو نمونہ دیکھ کر بھی چیز کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے دھتکار دیتا اور اپنی درگاہ سے نکال دیتا ہے۔ہماری جماعت کے ہر فرد نے جس نے اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ احمدیت کو قبول کیا ہو اپنے نفس میں تجربہ کیا ہوگا کہ احمدیت کے قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس پر خاص فضل نازل فرمایا اور روحانیت کی بعض کھڑکیاں اُس کیلئے کھول دیں۔تمام احمد یوں کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ حالت ان کی وہ نمونہ تھی جو خدا تعالیٰ نے اس لئے ان کے سامنے پیش کیا تا انہیں روحانی عالم کی قیمت معلوم ہو جائے اور وہ اس کی لذت سے آشنا ہو جائیں۔اب اگر وہ چاہتے ہیں کہ مزا قائم رہے اور لذت بڑھے اور جس چیز کی لذت سے ان کی زبان آشنا ہوئی تھی اس سے ان کا معدہ بھی پُر ہو جائے اور وہاں سے خون صالح پیدا ہو کر ان کے دماغ اور ان کے دل اور ان کے تمام جوارح کو طاقت بخشے تو اس کیلئے انہیں وہی قیمت ادا کرنی ہوگی جو ان سے پہلے لوگوں نے ادا کی اس کے بغیر کوئی راہ ان کیلئے کھلی نہیں۔قربانی ہی ایک راہ ہے جس سے لوگ اپنے یار تک پہنچتے ہیں اور موت ہی وہ راستہ ہے جو اپنے محبوب تک پہنچاتا ہے پس اس موت کیلئے تیار ہو جاؤ اور ان کے اعمال کو اختیار کرو جو انسان کو موت کیلئے تیار کرتے ہیں ہر کام کے کمال کیلئے ابتدائی مشق کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کامل قربانی کیلئے نسبتاً چھوٹی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔تحریک جدید کے پہلے دور نے ان کی چھوٹی قربانیوں کی طرف جماعت کو بلایا ہے وہ جو ان چھوٹی قربانیوں پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوں