خطبات محمود (جلد 17) — Page 710
خطبات محمود 21° سال ۱۹۳۶ پس یہ اعتراض کہ وہ صحابہ جو اس عرصہ میں فوت ہو گئے کیا ان کے درجے کی تکمیل نہ ہوئی کیونکہ کامل شریعت ان کے زمانہ میں نہیں اتری تھی اس حقیقت سے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں دور ہو جاتا ہے۔یہ امر واضح ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں مارے گئے وہ کمال کو کمال ایمان سے حاصل کر چکے تھے اور ان کا دل شدتِ ایمان سے وہ سب کچھ حاصل کر چکا تھا جو تفصیلی احکام دوسروں نے حاصل کرنا تھا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو مُردہ کہنے سے روکا ہے اور انہیں دائمی زندہ قرار دیا ہے یعنی ان کی حالت وفات کے ساتھ ایک جگہ پر قائم نہیں ہو جاتی بلکہ ان کی تکمیل اسی طرح ہوتی چلی جاتی ہے جس طرح دنیا میں رہ کر عمل صالح کرنے والوں کی۔غرض انسانی ترقی کیلئے خاص قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن انسانی کمزوری ابتداء میں بعض سہولتوں کی بھی طالب ہوتی ہے اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ تحمیل شریعت ایک دن میں ہی نہیں کرتا بلکہ ایک لمبے عرصہ میں احکام کے سلسلہ کو ختم کرتا ہے۔یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے جو اُن انبیاء کے زمانہ میں ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ شریعت نازل کرتا ہے۔جو انبیاء بغیر شریعت کے آتے ہیں اور جو پہلی کتابوں کی تکمیل کرتے ہیں یعنی ان کے مضامین کو دنیا میں قائم کرتے ہیں ان کی جماعتوں کی کمزوری کا اللہ تعالیٰ ایک اور طرح لحاظ کر لیتا ہے چونکہ شریعت تو پہلے سے مکمل ہوتی ہے احکام کے متعلق تو ان سے کوئی سہولت نہیں کی جاسکتی۔پس مجاہدات اور قربانیوں میں ان سے سہولت کا معاملہ کیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ان پر بوجھ لادا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے سامنے یہ شرط پیش کر دیتا ہے کہ یا گلی طور پر اپنے آپ کو میرے سپر د کر دو یا مجھ سے بالکل جدا ہو جاؤ جس قدر مہلت تمہارے لئے ضروری تھی وہ میں دے چکا اب میری رحمت اپنے فضلوں کی تکمیل کیلئے بے تاب ہو رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں چن لوں اور اسی طرح چن لوں جس طرح کہ تم سے ماسبق جماعت کو چنا جاتا تھا اور تمہارے دلوں کو اپنے غیر کی محبت سے صاف کر دوں خواہ وہ وطن کی محبت ہو، خواہ وہ اولاد کی محبت ہو، خواہ وہ بیویوں کی محبت ہو، خواہ وہ آسائش کی محبت ہو، خواہ وہ کھانے پینے کی محبت ہو، خواہ وہ پہننے کی محبت ہو، خواہ ماں باپ کی محبت ہو، خواہ عزت و رتبہ کی محبت ہو، خواہ مال کی محبت ہو ، جو شخص