خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 697 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 697

خطبات محمود ۶۹۷ سال ۱۹۳۶ ہے مگر اس کی نیت یہ تھی کہ اگر خدا تعالیٰ موقع دے تو دوارب لوگوں کو فائدہ پہنچائے لیکن اُسے موقع صرف دس کو ہی پہنچانے کا مل سکا تو گیارھویں کو جب اُس کی نیت کا علم ہوگا کہ یہ رات دن اس کوشش میں رہتا تھا کہ اسے فائدہ پہنچائے تو وہ اس کی تعریف کرے گا یا نہیں۔اور جوں جوں یہ علم پھیلتا جائے گا اس کی تعریف بھی پھیلتی جائے گی اور جو اس کی تعریف نہیں کرے گا وہ صرف اس وجہ سے نہیں کرے گا کی کہ اسے علم نہیں۔اس طرح لا علم ہونے کی وجہ سے تعریف نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی موجود ہیں ان کی کا تعریف نہ کرنا عدم علم کی وجہ سے ہے اگر انہیں پتہ ہو کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے تو وہ ضرور اس کی تعریف کریں۔پس اس طرح جو بندہ نیک نیت ہے اس کے متعلق بھی اگر ساری دنیا کوعلم ہو تو سب اُس کی تعریف کریں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن اور رحیم ہے۔انسان کے پاس جو سامان میسر ہے وہ دوسرے کو دے دیتا ہے اور نیت یہ رکھتا ہے کہ اور ہو تو وہ بھی دے دوں۔تو اس کے عمل میں جو کو تا ہی رہے گی اُسے اس کی نیت پوری کر دے گی۔پس عمل اور ارادہ مل کر انسان کو خدا تعالیٰ کا مظہر بنا دیتے ہیں جس حد تک عمل چلتا ہے وہاں تک عمل دکھانا پڑتا ہے لیکن جہاں غفلت کی وجہ سے یا وفات کی وجہ سے عمل ختم ہو جاتا ہے وہاں ارادہ اور نیت کمی کو پورا کر دیتا ہے اور وہ شخص حمد کا مستحق ہو جاتا ہے۔بعض لوگ عمل تو درست رکھتے ہیں مگر ان کی نیت درست نہیں ہوتی خصوصاً آجکل تو ظاہر داری بہت ہے ایک شخص ملنے آتا ہے تو کہتے ہیں آئے تشریف لائیے۔آپ بہت اچھے آدمی ہیں مگر دل میں یہی ہوتا ہے کہ اس نے فلاں موقع پر میرے ساتھ فلاں بات کی تھی اگر موقع ملے تو اس کا گلا گھونٹ دوں۔عمل تو اچھا ہوتا ہے مگر نیت خراب ہوتی ہے نیت کیلئے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔اس زمانہ میں ایمان کی کمی کی وجہ سے نیت زیادہ خراب ہے۔ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے جتنے جھگڑے ہیں وہ سب نیت کی خرابی کی وجہ سے ہی ہیں۔ایک مجلس میں ایک پنڈت صاحب سے ایک مولوی صاحب ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بس آپ کا احسان ہے بیوی بچے آپ ہی کے احسانات کی وجہ سے پلتے ہیں۔لیکن گھر میں آ کر کہتا ہے کہ یہ بڑا خبیث ہے موقع ملے تو اسے جان سے مار دوں۔اور ہند و مسلمان سے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ خان صاحب آپ ہی ہمارے اَن داتا -