خطبات محمود (جلد 17) — Page 694
خطبات محمود ۶۹۴ سال ۱۹۳۶ کیا يَا رَسُوْلَ اللهِ ! آپ نے جو احتیاطیں کیں یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا ورنہ جس خدا نے آپ کے ساتھ فتح کا وعدہ کیا ہے مکہ والے اُس کی طاقتوں کا مقابلہ کہاں کر سکتے ہیں مکہ میں میرے کوئی رشتہ دار ایسے نہیں ہیں جو میرے بیوی بچوں کی حفاظت کر سکیں باقی سب صحابہ کے رشتہ دار مکہ کے بڑے بڑے رئیس ہیں میں نے اس لئے رقعہ بھیج دیا تھا کہ اس وجہ سے وہ میرے بیوی بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔باقی خدا کی بات تو پوری ہو کر ہی رہے گی اس لئے میرا قعہ بھیج دینا کوئی ایسی بات نہ تھی جس سے اسلام کو نقصان پہنچ سکے۔عام حالات میں یہ ایک منافقانہ بات ہے اور اس جواب کوسُن کر انسان کہے گا کہ بہانے بناتا ہے لیکن اس میں شبہ بھی کیا ہے کہ یہ بات بچی تھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کو کون ٹلا سکتا تھا مگر چونکہ عام حالات میں یہ ایک منافقانہ بات تھی اس لئے صحابہ نے اپنی تلوار میں نکال لیں کہ اجازت ہو تو ابھی سرکاٹ دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا آرام سے بیٹھو تمہیں معلوم نہیں کہ یہ بدری ہے۔۳ واقعہ خود بتاتا ہے کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُم کا کیا مطلب ہے۔اس صحابی سے غلطی ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے دی اور وہ رقعہ واپس آ گیا اس عورت نے جا کر یہ سارا واقعہ مکہ میں بیان تو کر ہی دیا ہو گا کہ اس طرح فلاں شخص نے مجھے ایک رقعہ دیا تھا جس میں یہ لکھا تھا اور اس طرح وہ مجھ سے واپس لے لیا گیا اور اس طرح وہ صحابی اس رقعہ سے جو فائدہ اُٹھا نا کی چاہتے تھے وہ بھی حاصل ہو گیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے اس رقعہ کے پہنچنے کے گناہ سے اُس صحابی کو بھی بچا لیا۔آنحضرت ﷺ نے کئی کئی منزلیں ایک ایک دن میں طے کیں تا کہ والوں کو خبر ہونے سے پیشتر ہی پہنچ جائیں۔تو اعْمَلُوا مَا شِئْتُم میں یہی بتایا تھا کہ بدری صحابی اگر کوشش بھی کریں تو اُن سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو گی جو انہیں گنہگار بنا دے۔اللہ تعالیٰ کو علم تھا کی کہ اگر یہ رقعہ پہنچا تو وہ صحابی گنہ گار ہوگا اس لئے رسول کریم ﷺ کو حکم دیا کہ بھیجو علی کو اور رقعہ واپس منگوالو۔یہ مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اس مقام پر پہنچ جائے اللہ تعالیٰ اس سے گناہ سرزد ہونے ہی نہیں دیتا۔ایک صحابی نے غلط فہمی کی وجہ سے ایک ایسا فعل کیا جو اُسے گناہگار بنانے والا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم جاری کر کے اسے بچا لیا۔تو مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسے انسان کے انجام کو اللہ تعالیٰ اپنا انجام قرار دے لیتا ہے۔