خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 690

خطبات محمود ۶۹۰ سال ۱۹۳۶ ہوں اب تم دونوں مجھے معاف کر دو۔مگر ان کی بیویاں شاید بوجہ ان پڑھ ہونے کے خاوند کی طبیعت کو پڑھنے سے قاصر تھیں انہوں نے خیال کیا کہ یہ اب نرم اور ڈھیلا ہے اب ہمارے لئے بدلہ لینے کا موقع ہے کہنے لگیں اب جو معافی مانگنے آئے ہو پہلے ہی کیوں اس قدر ظلم کرتے رہے ہو پھر ایک کو تو قصور پر اور دوسری کو بلا وجہ ہی مارتے رہے ہو پہلے ہی خیال کر لینا چاہئے تھا۔معافی مانگنے کیلئے ان کا جوش چونکہ عارضی تھا اور نصیحت کے ماتحت تھا بیویوں سے جب یہ جواب سنا تو سامنے لاٹھی پڑی تھی کہنے لگے معاف کرتی ہو یا اس لاٹھی سے تمہاری ہڈیاں تو ڑ دوں۔بیویوں نے جب یہ دیکھا کہ پھر وہی دورہ ہونے لگا ہے تو کہنے لگیں آپ نے آخر قصور کون سا کیا ہے جس کی معافی مانگتے ہیں۔آپ تو بہت اچھے آدمی ہیں۔تو اس قسم کی تعریف تو انسان کرواہی لیتا ہے یہ کون سا مشکل کام ہے۔تعریف وہ ہے جو دل سے نکلتی ہے اور علم کے ماتحت ہوتی ہے۔کچی تعریف ہمیشہ دو طرح سے ہی ہو سکتی ہے ایک علم کے ماتحت ہو اور دوسرے دل سے نکلتی ہو سچی تعریف کیلئے یہ دو شرطیں ایک وقت میں ضروری ہیں ممکن ہے ایک تعریف علم کے ماتحت ہومگر دل سے نہ نکلے اور یہ بھی ممکن ہے ایک تعریف دل سے نکلے مگر علم کے ماتحت نہ ہو۔ایک گاؤں میں چلے جاؤ کئی پارٹیاں نظر آئیں گی ایک دوسری کو قتل کرنے والی اور مال و اسباب کو ٹنے والی۔ان میں سے ہر ایک مجلس میں بیٹھو وہ اپنے لیڈر کی تعریف کرتی ہوگی کہ وہ بڑے اچھے آدمی ہیں ، بڑے شریف ہیں اور بڑے نیک ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں جس نے دوست سے نیکی کی وہ نیک ہے دشمن سے ظلم کو بھی وہ نیکی سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دشمن سے جتنا ظلم بھی کیا جائے وہ نیکی ہی ہے۔ڈاکو، فاسق ، فاجر اور بدمعاش کی تعریف میں ان کی زبانیں خشک ہوتی ہیں وہ تعریف دل سے تو کرتے ہیں مگر علم کے ماتحت نہیں کیونکہ وہ جانتے ہی نہیں شرافت اور نیکی کیا ہے۔دوسرا پہلو علم کا یہ ہے کہ بعض دفعہ انسان کو اس چیز کا پتہ ہی نہیں ہوتا وہ ایک چیز کو دیکھتا ہے کہ روشن اور خوبصورت ہے مگر اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اپنی ذات میں زہر ہے مثلاً ایک سانپ ہوتا ہے بچہ اُس پر ہاتھ پھیرتا اور سمجھتا ہے کہ کیسا نرم ہے مگر وہ اُسے ڈس لیتا ہے اُس کی ذات کے اندر جو برائیاں ہوتی ہیں ان کا اسے علم نہیں ہوتا۔یہ علم کی کمی کی دوسری مثال ہے کہ انسان اس چیز کی حقیقت سے ہی ناواقف ہوتا ہے۔سانپ کی چھکتی ہوئی آنکھیں اور نرم جسم دیکھ کر بچہ خیال کرتا ہے کہ کیسا