خطبات محمود (جلد 17) — Page 679
خطبات محمود ۶۷۹ سال ۱۹۳۶ برساؤ کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر جو درخت ہے اُس کے گھونسلہ تک پہنچ جائے تا کہ چڑیا کا بچہ پانی پی سکے۔فرشتوں نے کہا خدایا! وہاں تک پانی پہنچانے میں تو ساری دنیا غرق ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے جواب دیا کوئی پرواہ نہیں اس وقت دنیا کے لوگوں کی میرے نزدیک اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی اُس چڑیا کے بچہ کی حیثیت ہے۔اس کہانی میں یہی سبق سکھایا گیا ہے جو بالکل درست ہے کہ صداقت اور راستی سے خالی دنیا ساری کی ساری مل کر بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک چڑیا کے بچہ جتنی حیثیت نہیں رکھتی۔تو پھر بتاؤ کہ ایک یا چند انسانوں کی صداقت کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہوسکتی ہے کہ ان کا لحاظ رکھا جائے۔میں ایک عرصہ سے تم میں سے وہ لوگ جن کی آنکھیں ہیں انہیں دکھا رہا ہوں ، جن کے کان ہیں انہیں سنا رہا ہوں اور جن کی جس ہے انہیں محسوس کر رہا ہوں کہ سلسلہ کے قیام یا اس کی زندگی کے قیام کے مقابلہ میں منافق تو کیا خود تمہاری جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی جاسکتی بلکہ جس طرح گھتے کی سڑی ہوئی لاش پھینک دی جاتی ہے اسی طرح اگر تم صداقت کے مقابل پر آجاؤ تو تمہیں پھینک دیا جائے گا بلکہ سڑے ہوئے گتے کی لاش پھینکتے ہوئے بھی رحم آ سکتا ہے لیکن اگر تم صداقت کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ تو تم سڑے ہوئے گنے کی لاش جتنی بھی حیثیت نہیں رکھو گے اور فوراً سلسلہ سے منقطع کر دیئے جاؤ گے۔تم خود غور کر کے دیکھ لو میں نے جس وضاحت سے صداقت کی قیمت تمہارے سامنے پیش کی ہے اس کے بعد کیا کوئی بھی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس صداقت کو چند نفوس کے لئے مٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔میں اپنی حیثیت سمجھتا ہوں اور تم اپنی حیثیت جانتے ہو ہم سب سوچ سمجھ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ کیا ہماری اس صداقت کے مقابلہ میں کوئی بھی حیثیت ہے۔ہمارے ملک میں گتے کو سب سے زیادہ ذلیل سمجھا جاتا ہے اسی لئے میں نے گتے کی مثال دی ہے ورنہ اگر مجھے گنے سے بھی کم حیثیت رکھنے والی چیز کی مثال نظر آتی تو میں وہی دیتا ممکن ہے کہ بعض لوگ سچائی کے مقابلہ میں اپنی قیمت اس سے زیادہ سمجھتے ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ازلی سچائی کے مقابلہ پر اپنے آپ کو سڑے ہوئے گتے سے تشبیہہ دے کر میں نے اپنی قیمت زیادہ ہی لگائی ہے کم نہیں لگائی کیونکہ اس صداقت از لیہ کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ، نہ ایک کی نہ دو کی ، نہ دس کی نہ ہیں کی ، نہ سو کی نہ ہزار کی بلکہ لاکھوں اور کروڑوں اور اربوں سالوں کی