خطبات محمود (جلد 17) — Page 666
خطبات محمود ۶۶۶ سال ۱۹۳۶ نسبت وہی ہے جو دو اور دو سو گھماؤں میں ہے مگر شہروں میں میں روپے تنخواہ لینے والے کی کیا مجال ہے کہ جو دو ہزار تنخواہ والے کی دری پر بیٹھ سکے اور اس کا اتنا اثر ہے کہ زمیندار لوگ بڑے ہونے کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ فرعونیت میں بڑا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ مجھے جو زمیندار احمدی ملنے آتے ہیں وہ جب دور سے دیکھتے ہیں تو جوتیاں اُتار دیتے ہیں وہ خدمت کو بڑائی نہیں سمجھتے بلکہ فرعون کو مزاجوں کو دیکھ کر ان غریبوں کے ذہن میں بڑائی کے معنے فرعونیت کے ہی ہو گئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اگر بڑے آدمی کے ساتھ چار پائی پر بیٹھ گئے تو بس شامت ہی آجائے گی۔بدقسمتی سے ہمارے ملک کے پیروں نے بھی بڑائی کا یہی مفہوم پیش کیا ہے۔اس کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ایک پیر صاحب سفر کر رہے تھے اور ساتھ ایک میراثی خدمتگار تھا پرانے زمانہ میں میراثی اکثر سفروں میں خدمت کیلئے ساتھ جایا کرتے تھے وہ رات کے وقت ایک سرائے میں پہنچے بارش ہونے کی وجہ سے تمام کیچڑ ہی کیچڑ تھا اور مشکل یہ ہوئی کہ چار پائی صرف ایک ہی ملی۔میراثی نے وہی پیر صاحب کیلئے بچھا دی اور خود پرے ہٹ کر پائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔پیر صاحب طیش میں آگئے اور اس بیچارے کے دو چار تھپڑ لگا دیئے اور کہا کہ بے شرم ! ہمارے برابر بیٹھتا ہے۔اگلے روز پھر ایک سرائے میں پہنچے اور اتفاق سے وہاں ایک چارپائی بھی نہ ملی اُس نے پیر صاحب کو تو کچھ گھاس پھوس جمع کر کے بستر کر دیا اور خود پھاوڑا لے کر زمین کھود نے لگا۔پیر صاحب کہنے لگے کہ یہ کیا کرتا ہے؟ اُس نے کہا کہ اپنے لئے گڑھا کھودتا ہوں کیونکہ آپ کے برابر تو نہیں بیٹھ سکتا۔تو بیچاروں کو ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ بڑائی کے معنی ان کے نزدیک فرعونیت کے ہو گئے ہیں۔میں بار بار منع کرتا ہوں اور سیڑھیوں میں بھی لکھوا کر لگا رکھا ہے کہ جو تیاں نہ اُتاری جائیں مگر اول تو کوئی پڑھتا نہیں اور اگر پڑھے تو خیال کر لیتا ہے کہ اگر چہ لکھا ہوا ہے پھر بھی ادب کا تقاضا یہی ہے کہ جوتیاں اُتار دی جائیں۔تو یہ چیزیں شہرت او رمغربیت کے اثر کے ماتحت ہیں۔محبت، پیار، اخلاص اور مہمان نوازی جو دیہات میں ہے وہ شہروں میں نہیں۔لا ہور کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے جو اگر چہ غلط ہی ہو مگر شہری ذہنیت کا اظہار ضرور کرتا ہے وہ یہ کہ لاہور میں کسی کے کوئی مہمان آجائے تو کہتے ہیں کہ بھائی جی! روٹی بھی تیار ہے اور گاڑی بھی۔اور ظاہر ہے کہ جس نے جانا ہو وہ روٹی کہاں کھائے گا وہ تو یہی کہے گا کہ اچھا میں جاتا ہوں۔