خطبات محمود (جلد 17) — Page 641
خطبات محمود ۶۴۱ سال ۱۹۳۶ کاموں پر اعتراض نہ کرو تو یہ کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کا ایک دومنٹ کا کام نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں سال کا کام نَعُوذُ بِالله لغو اور بے فائدہ ہے۔تو وقار کے معنی قرآن کریم میں حکمت والے کام کے بیان کئے گئے ہیں گویا تمام دنیا کی پیدائش اور اس کا ایک قانون کے ماتحت چلنا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب وقار ہے یعنی وہ کوئی کام فضول ، بے غرض اور بے محل نہیں کرتا بلکہ اس کا ہر کام کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس کے مطابق ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم جب بھی وقار کا لفظ استعمال کریں تو یہ امر اپنے مد نظر رکھیں کہ ہم جو کام کرتے ہیں یا جس کام کے کرنے کی لوگوں کو تاکید کرتے ہیں وہ بے محل تو نہیں کیونکہ بے محل ہونے کے لحاظ سے بھی وقار اور غیر وقار کا سوال سامنے آجاتا ہے۔مثلاً وہی واقعہ جس کے متعلق اس دوست کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ وقار کے خلاف ہے اس کو میں نے بھی بے وقار قرار دیا تھا اور اس کی وجہ بھی میں نے اُسی خطبہ میں بیان کر دی تھی کہ یہ امر بتانا تو ہندوؤں کو ہے کہ مسٹر کھوسلہ نے غلط فیصلہ کیا ، یہ امر بتانا تو سکھوں اور عیسائیوں کو ہے کہ ہائیکورٹ کے ایک جج نے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کو باطل قرار دیا ہے، مگر ٹوپیاں پہن کر گھوم اپنے بازاروں میں رہے ہیں حالانکہ اپنے بازاروں میں پھرنے کا کیا فائدہ۔پس یہ کام بے حکمت تھا، بے غرض اور بے فائدہ تھا اور ایک لغو فعل تھا جس کا ارتکاب کیا گیا مگر یہی فعل ایک اور رنگ میں اگر کیا جائے تو بالکل وقار کے مطابق ہوگا۔دیکھو ایک شخص سمجھدار ہے وہ دوسروں کو اپنی بات بخوبی سمجھا سکتا ہے لوگ اُس کی بات سُن کر مان بھی سکتے ہیں وہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے مثلاً اسی قسم کی ٹوپی پہن کر چل پڑتا ہے اور زبان سے اس فیصلہ کی تردید نہیں کرتا تو ہم کہیں گے اُس کا یہ فعل خلاف وقار ہے کیونکہ جس شخص کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ اس فیصلہ کو دلائل سے غلط ثابت کرے وہ اگر اپنی ٹوپی پر ہائیکورٹ کے ایک فیصلہ کا ایک فقرہ لکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ اُس کا فرض ادا کی ہو گیا تو وہ ایک لغو کام کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص زبان سے کام نہیں لے سکتا مثلاً فرض کرو کوئی گونگا ہے وہ بول نہیں سکتا لیکن چونکہ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس ثواب میں شریک ہو اس لئے اگر وہ ایسا کوٹ پہن کر پھرتا ہے جس پر مسٹر کھوسلہ کے متعلق تردیدی فقرات درج ہوں تو کوئی شخص نہیں کہے گا کہ اس کا فعل خلاف وقار ہے کیونکہ آخر ایک گونگے کیلئے بھی تو ثواب کا کوئی ذریعہ چاہئے۔