خطبات محمود (جلد 17) — Page 625
خطبات محمود ۶۲۵ سال ۱۹۳۶ ہر شخص کا اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے ممکن ہے ہزاروں علماء قرآن کریم کی ان آیتوں کو پڑھ گئے ہوں اور انہیں کبھی خیال بھی نہ آیا ہو کہ ان میں وقار کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے کیا معنے ہیں مگر قرآن کریم کی جو آیتیں میرے دل میں اس وقت تک کھٹکتی رہیں جب تک کہ خدا تعالیٰ نے ان کا مفہوم مجھ پر نہیں کھولا یا قرآن کریم کی جن آیات کو میں مشکل سمجھتا رہا ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہے اور جس میں وقار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔وقار کو جن معنوں میں عام طور پر لوگ استعمال کرتے ہیں ان معنوں کو جب میں اس آیت پر چسپاں کرتا تو حیران ہو جاتا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہوا کہ مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا اور خدا کے لئے وقار کا لفظ استعمال کرنے کا مقصد کیا ہے۔اور میں ہمیشہ اس پر حیران رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے معنی مجھ پر کھول دیئے اور وہ آیت جو پہلے میرے لئے مشکل تھی مجھ پر آسان ہو گئی۔مگر اس قسم کی آیتیں جن کے معنے ایک عرصہ تک مجھ پر نہیں کھلے صرف چند ہی ہیں ورنہ بالعموم قرآن کریم خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلی نظر میں ہی مجھ پر حل ہو گیا ہے۔ہاں بعض آیات جو دوسروں کو بظاہر سیدھی سادھی نظر آتی رہی ہیں اور بعض ایسی آیات بھی جو دوسروں کے نزدیک بھی مشکل آیات میں سے ہیں پہلی نظر میں ہی مجھ پر حل نہیں ہوئیں بلکہ زیادہ عرصہ تک مجھے ان پر غور کرنے اور ان کے متعلق توجہ اور دعا کرنے کا موقع ملا ہے تب وہ مجھ پر حل ہوئی ہیں۔غرض انہی آیات میں سے ایک یہ آیت بھی ہے جو بظاہر سیدھی سادھی نظر آتی ہے شاید اس آیت کے معنے مجھ سے سن کر یا مجھ سے سنے والے کسی اور عالم سے سن کر لوگوں کو اس آیت کا مفہوم معلوم کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا نہ ہوا ہو کیونکہ شروع سے ہی ان کے سامنے اس آیت کے معنے آگئے لیکن میرے لئے ایک عرصہ تک اس آیت میں وقار کے لفظ کا استعمال حیرت کا موجب رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اصل حقیقت واضح کر دی۔اللہ تعالیٰ کیلئے وقار کے لفظ کا استعمال اس مفہوم میں جو ہمارے ہاں استعمال ہوتا ہے ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے اور اب بھی اپنے دلوں میں غور کر کے آپ لوگوں کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ عام مفہوم کے مطابق اس لفظ کا استعمال اس جگہ پر عجیب لگتا ہے اور انسان کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا جب تک اسے وقار کے کوئی ایسے معنے نہ بتائے جائیں جو اللہ تعالیٰ پر چسپاں ہوسکیں۔