خطبات محمود (جلد 17) — Page 624
خطبات محمود ۶۲۴ سال ۱۹۳۶ رقہ پر رکھتا ہے اور تعلیم اور عدم تعلیم کے تفرقہ پر رکھتا ہے لیکن باوجود اس لفظ کے کثیر الاستعمال ہونے کے اگر کسی شخص سے جا کر دریافت کرو کہ یہ وقار کیا چیز ہوتی ہے تو وہ کبھی نہیں بتا سکے گا۔اب تو میں اس مضمون کو بیان کر رہا ہوں اور انشاء الله وقار کا مفہوم بیان کر ہی دوں گا لیکن اس سے پہلے اگر اچھے اچھے تعلیم یافتہ اشخاص سے بھی آپ پوچھتے کہ وقار کے کیا معنے ہیں تو وہ ایسے ایسے مضحکہ خیز جواب دیتے کہ آپ سُن کر حیران رہ جاتے۔جہاں تک میں نے انسانی علم اور انسانی سمجھ کا مطالعہ کیا ہے اور جہاں تک مجھے انسان کے حالات کا تجربہ ہے اس کے مطابق میں کہہ سکتا ہوں کہ گو قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور میں ابھی ان معنوں کو انشَاءَ اللهُ بیان کر دوں گا جو قرآن کریم کی رو سے ثابت ہیں لیکن ہمارے ملکی محاورہ کے مطابق اور اس لفظ کے عام استعمال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ لفظ اُن چند الفاظ میں سے ہے جن میں سے ہر ایک کی نسبت غالب کی اصطلاح کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ شرمندہ معنی نہ ہوا اس لفظ کے کوئی بھی معنی لوگوں میں نہیں سمجھے جاتے نہ اس لفظ کو استعمال کرنے اور اسے اپنے منہ سے نکالنے والا سمجھتا ہے کہ اس کے کیا معنے ہیں اور نہ اس لفظ سننے والا سمجھتا ہے کہ یہ لفظ کن معنوں میں استعمال کیا گیا ہے حالانکہ بولنے والے بولتے اور سننے والے سنتے ہیں لیکن نہ بولنے والوں کو خیال آتا ہے کہ وہ غور کریں اس لفظ کے کیا معنے اور کس مفہوم میں وہ یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں اور نہ سننے والوں کو یہ خیال آتا ہے کہ وہ اس لفظ کے مفہوم پر غور کریں اور اس کے اصل معنے معلوم کرنے کی کوشش کریں۔لیکن پیشتر اس کے کہ میں وقار کے معنے بیان کروں جن لوگوں کو وقار کا لفظ استعمال کرنے کی عادت ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے دلوں میں سوچیں کہ وقار کے اب تک وہ کیا معنے سمجھتے رہے ہیں۔اگر وہ سوچیں گے تو انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس لفظ کے کوئی معنے نہیں سمجھتے تھے گو اس کا استعمال وہ بہت کرتے تھے۔در حقیقت بعض چیزوں کی طرف توجہ دلانے سے ایک فائدہ ہو جاتا ہے کہ ان کی تشریح ہو جاتی ہے۔اگر وہ دوست اپنے اعتراض کے دوران میں وقار کا لفظ استعمال نہ کرتے تو شاید مجھے یہ کبھی خیال پیدا نہ ہوتا کہ بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں کہ وقار کیا ہوتا ہے اور وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ ان کے سامنے وقار کی تشریح کر دی جائے۔