خطبات محمود (جلد 17) — Page 617
خطبات محمود ۶۱۷ سال ۱۹۳۶ تھے ان کی نہایت تکلیف دہ اوقات میں انگریزی قونصلوں نے مدد کی ، بعض دفعہ قرض کے طور پر روپیہ بھی دیا اور ہماری ہدایتوں کے مطابق انہیں واپس پہنچایا۔پس یہ غلط بیانی اور جھوٹ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ برطانوی نمائندوں نے ہماری کبھی مدد نہیں کی۔برطانوی نمائندوں میں سے جنہوں نے ہماری مدد کی وہ شریف انسان اور بچے برطانوی تھے اور جنہوں نے ہماری مدد نہیں کی وہ ذلیل انسان اور جھوٹے برطانوی تھے۔انہی دنوں تحریک جدید کے ماتحت سپین میں جو ہمارا آدمی گیا ہوا ہے انگریزی قونصل نے اس سے اظہارِ ہمدردی کیا اور کہا کہ چونکہ لڑائی ہورہی ہے اس لئے میں تمہارے لئے سپین سے باہر جانے کا انتظام کر دیتا ہوں اور تم مطمئن رہو کہ تمہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔مگر اس نے کہا میں تو مرنے کیلئے ہی آیا ہوں میں یہاں سے نہیں جاسکتا اور میں تو چلا ہی اس نیت سے تھا کہ قربانی کروں گا۔پس اگر میری جان کی قربانی کی ضرورت ہے تو میں یہاں سے کس طرح جا سکتا ہوں۔پھر انگریزی قونصل نے اسے یقین دلایا کہ ہم ہر طرح تمہارا خیال رکھنے کیلئے تیار ہیں۔ہم نے اپنے مبلغ کا حال معلوم کرنے کیلئے جو تار دیا اس کا بھی اس نے ہماری تشفی کیلئے تار میں ہی جواب دیا حالانکہ وہ خط بھی لکھ سکتا تھا۔تو برطانیہ کے اندر اب بھی شرفاء موجود ہیں اور یہ بالکل غیر شریفانہ رویہ ہوگا اگر بعض کے نقص کی وجہ سے ہم ان کے اچھے آدمیوں کی بھی مذمت کرنے لگ جائیں۔میرے نزدیک نیشنل لیگ کو بجائے حکومت کا شکوہ کرنے کے کچھ اپنا اور کچھ مرکزی لیگ کا شکوہ کرنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ ہمارا قصور زیادہ ہے کہ ہم نے اب تک کچھ نہیں کیا۔گورنمنٹ ڈرتی کسی حقیقت سے ہے جب اسے پتہ ہو کہ لوگ کہتے تو ہیں مگر کرتے کچھ نہیں تو وہ نہیں ڈرتی۔کہتے ہیں کسی شخص نے اپنے باورچی خانہ کو دروازہ لگا دیا کیونکہ گتے اس کا کھانا کھا جاتے تھے۔جب گتوں نے دیکھا کہ باورچی خانہ کو دروازہ لگ گیا تو وہ سب مل کر رونے لگے۔ایک بڑھا گتا آیا اور پوچھنے لگا کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے ہم اسی باورچی خانہ پر پلتے تھے مگر اب وہاں دروازہ لگا دیا گیا ہے اب ہم کیا کریں گے؟ وہ کہنے لگا بیوقوفو! دروازہ تو لگ گیا مگر اسے بند کون کرے گا ؟ تو ڈرنے کی آخر کوئی وجہ بھی ہوا کرتی ہے۔جب دوسروں پر یہ اثر ہو کہ یہاں