خطبات محمود (جلد 17) — Page 615
خطبات محمود ۶۱۵ سال ۱۹۳۶ مل ہی جائے گا آؤ جھگڑے کو کیوں طول دیں اور جیسا کہ ہما را عام ہندوستانی طریق ہے کہنے لگا اجی صاحب ! ہم اور آپ کیا دو ہیں غلطی تو ہر ایک سے ہو ہی جایا کرتی ہے اور میں بھی غلطی کا پتلا ہوں آپ کو میں نے دل سے معاف کیا۔اس پر چور کہنے لگا اچھا تو آپ نے اپنے دل سے یہ بات نکال دی ؟ گھوڑے کے مالک نے جواب دیا ہاں ہاں میں نے بالکل دل سے نکال دی ہے۔اب مالک تو امید کر رہا تھا کہ یہ معافی مانگ کر گھوڑا مجھے واپس دے جائے گا لیکن چور نے جو کچھ کہا وہ یہ تھا کہ اچھا بھائی صاحب آپ کا بہت شکریہ اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر وہ جا اور یہ جا۔مالک بیچارہ منہ دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔بتاؤ کیا یہ معافی ہو سکتی ہے؟ اگر گورنمنٹ کے وہ افسر جنہیں شکوہ ہے کہ ہم چھلی باتوں کو بھلا کیوں نہیں دیتے چاہتے ہیں کہ ہم انہیں معاف کر دیں تو ہم آج بھی انہیں معاف کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن وہ ہمارے نقصان کا ازالہ بھی تو کریں۔نقصان ہمیشہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور ایک وہ جن کا ازالہ ہر وقت ہوسکتا ہے۔جن کا ازالہ نہیں ہو سکتا ان کے متعلق وہ معافی مانگ لیں اتنا ہی کافی ہے لیکن جن کا ازالہ ہو سکتا ہے اُن کا ازالہ کر دیں تو آج ہی تمام جھگڑا ختم ہوسکتا ہے۔لیکن اگر وہ افسران جن کے خلاف ہمیں شکوہ ہے یہ چاہیں کہ لفظوں سے ہمیں خوش کر دیں لیکن ہمارے نقصان کی تلافی نہ کریں تو یہ معافی ، معافی نہیں کہلا سکتی۔ہمیں جو نقصان پہنچے ہیں ان میں گو بعض ایسے ہیں جن کی تلافی نہیں ہوسکتی مگر بعض ایسے ہیں جن کی تلافی ہو سکتی ہے۔جن کی تلافی نہیں ہو سکتی اُن کے متعلق ہم بھی انہیں مجبور نہیں کرتے لیکن جن کی تلافی ہو سکتی ہے جب تک وہ اس کا ازالہ نہ کریں گے اُس وقت تک ہمارا اور ان افسروں کا جھگڑ اختم نہیں ہوسکتا۔مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے خلاف جماعت میں جوش تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق طبائع میں جو جوش ہے وہ جوش کسی صورت میں دب نہیں سکتا بلکہ یہ اُبھرتا اور بار بار ظاہر ہوتا ہے۔پچھلے دنوں قادیان میں بعض لوگوں نے زور و شور سے تقریریں کیں، بعض نے قربانیوں کے ڈراوے دیئے، بعض نے حکومت سے شکوہ کیا۔حکومت سے شکوہ بالکل بجا اور درست ہے اور میں خود بھی اِس کا مؤید ہوں مگر حکومت سے صرف چند افسر مراد ہیں ساری برطانوی حکومت مراد نہیں کیونکہ اس فیصلہ میں سارے برطانیہ کا دخل نہیں۔اگر ہم ایسا کہیں تو یہ