خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 611

خطبات محمود ۶۱۱ سال ۱۹۳۶ ہے کہ وہ کسی کی ایک خوبی سن کر اُس کے عیوب کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کی اس عادت کو دور کریں نہ یہ کہ سچائی کو ہی چھوڑ دیں۔ہمیں دھڑلے سے سچائی کا اظہار کرنا چاہئے اور پھر پوری قوت سے لوگوں کے عیب کو بھی دور کرنا چاہئے ہمیں کہنا چاہئے کہ گورنمنٹ نے فلاں غلطی کی اور ہمیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ گورنمنٹ نے فلاں اچھی بات کی۔ہمیں اس بات کے کہنے سے شرمانا نہیں چاہئے کہ گورنمنٹ کے بعض افسر اچھے ہیں اور نہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ان کی نیکی کو چھپادیں بلکہ جو افسر نیک کام کریں ہمارا فرض ہے کہ ہم کہیں انہوں نے نیک کام کیا اور جو افسر بُرا کام کریں ہمارا فرض ہے کہ ہم کہیں انہوں نے بُرا کام کیا۔ہم صداقت قائم کرنے کیلئے دنیا میں کھڑے کئے گئے ہیں اور ہمارا فرض صرف یہی نہیں کہ ہم زید اور بکر کی اصلاح کریں بلکہ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ گورنمنٹ کی بھی اصلاح کریں۔اگر ہم حکومت کے افسروں کی نیکیوں کو چھپائیں تو ہمارے مذہب اور ہمارے اخلاق کا ان پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔وہ یہی کہیں گے کہ دنیا داروں کی طرح یہ بھی ہمارے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر خوبیاں چھپاتے ہیں مگر جب ہم ان کی خوبیاں بھی بیان کریں گے اور برائیاں بھی ان کی اصلاح کیلئے ان کے سامنے رکھیں گے تو ان میں سے جو نیک طبائع ہوں گی وہ کہیں گی یہ نمونہ بہت اچھا ہے آؤ ہم بھی یہی نمونہ اختیار کریں اور جب وہ ہمارا نمونہ اختیار کریں گے تو ملک میں امن قائم ہو جائے گا اور چونکہ ہماری غرض نہ حکومت کو نقصان پہنچانا ہے نہ پبلک کو بلکہ ہماری غرض ملک اور قوم اور حکومت کو فائدہ پہنچانا ہے اس لئے جس ذریعہ سے نیکی اور تقویٰ پیدا ہو وہی ذریعہ ہمیں اختیار کرنا چاہئے خواہ عارضی طور پر اس کے نتیجہ میں ہمیں کوئی تکلیف بھی پہنچ جائے۔ہمارے ملک میں یہ عام رواج ہے کہ اگر آرام سے کوئی کہے کہ مجھے فلاں نے تھپڑ مارا ہے تو اس سے دوسرے کے دل میں ہمدردی پیدا نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی معمولی تھپڑ بھی مارے اور دوسرا زور زور سے چیخیں مارنی شروع کر دے تو اوروں کے دل میں فوراً ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ وہ درد سے نہیں شیخ رہا ہوتا بلکہ درد پیدا کرنے کیلئے چیخ رہا ہوتا ہے۔میں اس دفعہ دھر مسالہ کے قیام کے دوران میں ایک مرتبہ دھر مسالہ جا رہا تھا تو ہماری موٹر کے سامنے چند ہند و چیختے چلاتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ایک حادثہ ہو گیا ہے ہماری موٹر