خطبات محمود (جلد 17) — Page 508
خطبات محمود ۵۰۸ سال ۱۹۳۶ کی طرف آنا شروع کر دیا جہاں کہ رسول کریم ﷺ تقریر فرمار ہے تھے۔کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کانوں میں رسول کریم ﷺ کی یہ آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ اس لئے میں گلی میں ہی بیٹھ گیا اور میں نے گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔کسی نے کہا آپ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھتے۔تو عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ اگر داخل ہونے سے پہلے مرجاتا تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیتا ہے۔یہ وہ روح تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں نے فتح پائی اور انہوں نے دنیا میں اتنا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کہ حیرت سے دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ استعجاب سے انگشت بدنداں ہو گئی۔اس فرمانبرداری کے مظاہرہ کی ایک اور مثال میں سناتا ہوں۔رسول کریم علی مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ نے وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کیلئے تیار کیا اور اُسامہ بن زید کو اس کا سردار مقرر فرمایا تھا ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات ہوگئی اور سارے عرب میں بغاوت ہوگئی۔اس بغاوت کا حلقہ اتنا وسیع ہو گیا کہ صرف تین مقام ایسے تھے جہاں نماز با جماعت ہوتی تھی ایک مکہ میں ، ایک مدینہ میں اور ایک اور چھوٹے سے گاؤں میں ان کے سوا عرب میں ہر جگہ بغاوت رونما ہوگئی تھی۔بڑے بڑے صحابہؓ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اُسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ اِ دھر سارا عرب مخالف ہے اُدھر عیسائیوں کی زبر دست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی حکومت بالکل درہم برہم ہو جائے گی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ موقع نہیں کہ اسامہ کالشکر باہر بھیجا جائے آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں جب ہم انہیں دبا لیں گے تو اُسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کیلئے بھیج دیں گے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی نگسرا نہ حالت ظاہر کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کرتے کیونکہ ان کے باپ نہایت مسکین اور غریب آدمی تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہا کہ جیشِ اُسامہ کو روک لیا جائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا ابن ابوقحافہ کی طاقت ہے کہ محمد ﷺ ایک لشکر بھیجیں اور وہ اُسے روک لے۔پھر فرمایا خدا کی قسم ! اگر کفار مدینہ کو فتح کریں اور مدینہ کی