خطبات محمود (جلد 17) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۶ قریب کرے گا۔دنیا دیکھ لے کہ گالیوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا حرج ہوا۔حضور کی جماعت پر ایک دن بھی ایسا نہیں آتا جس میں اُس کو ترقی حاصل نہ ہوتی ہو اور دشمنوں پر ایک دن بھی ایسا نہیں آتا جس میں اُن میں کمی نہ آتی ہو۔تو ہمارا دشمن نقصان میں ہے نہ کہ ہم۔گالیاں دینا کی تو کمزوروں کا کام ہے اور یہ کمزور لوگوں کا ہی اوچھا ہتھیار ہے گالیاں دے کر وہ گو یا اپنا ناک آپ کاٹ رہے ہوتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو گھبرانا نہیں چاہئے تکالیف کا آنا خوشی اور فخر کا مقام ہے یہ زمانہ تلوار چلانے کا تو نہیں تھا اس لئے ہمارے دلوں میں ضرور یہ حسرت رہنی تھی کہ آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کے صحابہ کو تو تکالیف اٹھانے اور قربانیاں کرنے کی توفیق ملی مگر ہم کو یہ نعمت نصیب نہ ہوئی۔پس ہم کو گالیاں دلا کر اور بعض دوسری مشکلات میں مبتلاء کر کے اللہ تعالیٰ نے ہماری یہ حسرت پوری کر دی۔ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ صحابہ مصائب کو کس نگاہ سے دیکھا کرتے تھے کیونکہ ہمیں انہیں کے نقشِ قدم پر چلنے کا حکم ہے۔میں اس وقت ایک واقعہ بطور مثال سناتا ہوں تاریخوں میں آتا ہے ایک دفعہ رومیوں سے مسلمانوں کی جنگ ہو رہی تھی اور جنگ مبارزہ تھی یعنی دونوں طرف کے بہادر ایک ایک کر کے لڑ رہے تھے۔اتفاقاً ایک رومی سردار نے بہت سے مسلمانوں کو مار ڈالا۔کئی بہادروں کے مارے جانے کے بعد حضرت ضرار اُس کے مقابلہ کیلئے نکلے لیکن جو نبی مقابلہ شروع ہوا آپ اپنے خیمہ کی طرف بھاگ پڑے۔یہ دیکھ کر دشمن بہت خوش ہوئے اور مسلمان گھبرا اُٹھے کہ یہ کیا ہوا کیونکہ ضرار نہایت اعلیٰ پائے کے جرنیل تھے۔غالباً حضرت ابو عبیدہ سردار لشکر تھے انہوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔جب ضرار اپنے خیمہ میں پہنچے تو ان کی ہمشیرہ غصہ سے باہر نکل آئیں اور اُن کو ملامت کرنے لگیں۔حضرت ضرار نے کہا اصل بات یہ ہے کہ میں نے آج اتفاقا زرہ پہنی ہوئی تھی۔جب عیسائی جرنیل نے مجھ پر حملہ کیا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ضرار تو ہمیشہ بغیر زرہ کے لڑتا رہا ہے آج جو تو نے زرہ پہنچی ہے تو کیا اس وجہ سے کہ یہ عیسائی جرنیل بہت بہادر ہے اور تو مرنے سے ڈرتا ہے؟ یہ خیال آتے ہی مجھے خوف ہوا کہ اگر میں آج مر گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے ضرار! کیا تو ہماری ملاقات سے ڈرتا تھا کہ زرہ پہن کر لڑتا تھا ؟ تو میں