خطبات محمود (جلد 17) — Page 499
خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۳۶ یہ معنے ہوں گے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ حضور کو محمد کہتا ہے اور دوسری طرف نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلک ذلیل ہونے دیتا ہے۔پس اگر گالیوں کا ملنا ذلت ہے تو یہ ہرگز آنحضرت ﷺ کو نہ دی جاسکتیں۔ہاں ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کیلئے گالیاں کھا نا عزت ہے لیکن اپنی ذات کیلئے گالیاں کھانا کبھی ذلت کا موجب بھی ہو سکتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو ذاتی طور پر لوگ صادق اور امین کے نام سے یاد کیا کرتے تھے لیکن جو نہی حضور نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا لوگوں نے حضور کوتی کا ذب کہنا شروع کر دیا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت مے کی طرف یہ قول نقل فرمایا کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ ، یعنی دعوی نبوت سے قبل کیا کسی نے تم میں سے مجھے گالی دی یا کوئی اعتراض کیا ؟ ہاں جو نہی میں نے خدا تعالیٰ کا نام لیا تو تم نے مجھ کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔تو یہ گالیاں وہ لوگ حضور کو نہیں دے رہے تھے بلکہ درحقیقت خدا تعالیٰ کو دے رہے تھے اور وہ اوجھڑی حضور پر نہیں پھینکی گئی تھی بلکہ در اصل خدا تعالیٰ پر پھینکی گئی تھی اور جب حضور کے گلے میں رسی ڈالی گئی تھی تو محض محمد اللہ کے گلے میں نہیں بلکہ اُس محمد کے گلے میں ڈالی گئی تھی جو رسول اللہ ہونے کا مدعی اور خدا تعالیٰ کا نام لینے والا تھا۔پس یہ سلوک گو یا حضور سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے تھا۔میرے اس فقرہ پر تعجب نہ کرو کیونکہ انسان سے بعض سلوک خدا تعالیٰ سے سلوک قرار پاتے ہیں۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگوں کو مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا ، میں نگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا اس لئے تم جنت میں چلے جاؤ۔وہ لوگ کہیں گے تو کب ہمارے پاس بھوکا ہونے کی حالت میں آیا کہ ہم نے تجھ کو کھانا دیا یا کب نگا ہونے کی حالت میں آیا کہ تجھ کو کپڑا دیا۔تب اللہ تعالیٰ اُن کو فرمائے گا کہ دنیا میں میرا فلاں بندہ بھوکا اور نگا تھا تم نے اُس کو کھانا اور کپڑا دیا تو گویا اُسے نہیں بلکہ مجھے ہی دیا۔اسی طرح بعض لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمائے گا کہ میں تمہارے پاس بھوکا اور نگا ہونے کی حالت میں آیا مگر تم نے مجھے کھانا اور کپڑا نہ دیا اس لئے جہنم میں جاؤ۔وہ لوگ کہیں گے کہ اے خدا! تُو کب ہمارے پاس اس حالت میں آیا کہ ہم نے تجھ کو کھانا اور کپڑا نہ دیا تب خدا تعالیٰ ان کو بھی یہی جواب دے گا کہ دنیا میں میرا فلاں بندہ بھوکا اور ننگا تھا لیکن تم نے اس کو کھانا اور کپڑے کی مدد نہ