خطبات محمود (جلد 17) — Page 492
خطبات محمود ۴۹۲ سال ۱۹۳۶ ذاتی چیز اور ملکیت قرار نہیں دیا اور یہ جائز نہیں ٹھہرایا کہ یہ اشیاء حضور کے خاندان کی طرف بطور ورثہ کے منتقل ہو سکیں۔پس حکومت سے حضور نے اپنی ذات کیلئے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔حضور کی اولاد کے بارہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضور نے ان کیلئے کوئی چیز بھی دنیا میں نہیں چھوڑی۔حتی کہ حضور کی وفات کے وقت حضور کی بہت سی اشیاء گرو ر کھی ہوئی ثابت ہوئیں۔انسان کو اپنی زندگی میں بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آ جاتی ہیں کہ اسے اپنی مملوکہ اشیاء گرو رکھنی پڑتی ہیں اسی طرح حضور پر بھی تنگی اور فراخی کے زمانے آتے رہتے تھے۔خود حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں جب بہت سا مال آیا تو حضرت فاطمہ نے حضور سے درخواست کی کہ اس مال میں سے ایک لونڈی مجھے عنایت فرمائی جائے جو میرا کام کاج کرے۔حضور نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ یہ مال میرا تو نہیں ہے یہ تو خدا تعالیٰ کا ہے۔میں تم کو اس مال میں سے کچھ نہیں دے سکتا تم خدا تعالیٰ کا ذکر کیا کرو اور لونڈی کا خیال ترک کر دو سے۔پھر حضور کے دوستوں کو لو۔رسول کریم ﷺ کے دوست ایسے لوگ تھے جنہوں نے حضور کی بہت خدمات کیں لیکن حضور نے ان سے کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن میں دوسرے لوگوں پر ان کو ترجیح دی گئی ہو۔حضرت عباس محضور کے چا بھی تھے اور دوست بھی کیونکہ عمر میں برابر کے تھے ان کے تعلقات حضور سے اس قدرا ہم تھے کہ جب کچھ لوگ مدینہ منورہ کے مسلمانوں میں سے حج کرنے آئے اور انہوں نے چاہا کہ حضور کو اپنے ساتھ مدینہ لے چلیں تا کہ حضور مکہ کی تکالیف سے محفوظ ہو جاویں۔اُس وقت حضور نے ان کی ملاقات کیلئے صرف حضرت عباس کو اپنے ساتھ لیا اور معاہدہ بھی ان کی منشاء کے مطابق کیا۔یہی حضرت عباس جب بدر کی جنگ میں مسلمان ہونے سے پہلے قید ہوئے تو حضور نے ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا۔جس طرح باقی قیدیوں کو رسیوں میں جکڑا گیا اسی طرح اِن کو جکڑا گیا اور بوجہ رفاہیت کی زندگی کی عادت کے ان کو کئی دوسرے قیدیوں سے زیادہ تکلیف پہنچی اور وہ شدت درد سے کراہتے رہے۔چنانچہ بعض صحابہ نے رات کے وقت حضور علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ بار بار کروٹیں بدل رہے ہیں اور آپ کو بے چینی کی تکلیف معلوم دیتی ہے۔اس پر بعض صحابہ نے عرض کی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو نیند نہیں آ رہی اور کچھ بے چینی سی ہے۔حضور نے فرمایا ہاں میں بے چین ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شاید عباس