خطبات محمود (جلد 17) — Page 473
خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۶ بہادر بنو کہ مومن بُز دل نہیں ہوتا اور رحیم بنو کہ مومن ظالم نہیں ہوتا (فرموده ۲۴ / جولائی ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ منہ کی باتوں سے دنیا میں ہرگز کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہم میں سب کے سب ہی منہ سے اخلاص کا دعویٰ کرنے والے ہیں مگر عمل سے اخلاص کا ثبوت دینے والے اس کثرت سے موجود نہیں ہیں حالانکہ ہماری مشکلات پہلے سے بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور اگر پہلے صرف مختلف مذاہب بلکہ یوں کہو کہ مختلف مذاہب کے افراد مخالف تھے تو اب حکومت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جس کا مقصود جماعت احمدیہ کی مخالفت ہے۔لوگ گھبراتے ہیں ان باتوں پر اور بعض گھبرا کر مجھے لکھتے ہیں اور بعض زبانی بھی کہتے ہیں کہ کیا بات ہو گئی ، خدا کیوں اس کا علاج نہیں کرتا۔لیکن جہاں میں دعا اور تدبیر میں دوسروں سے بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتا ہوں وہاں ان مشکلات کے پیدا ہونے کے متعلق مجھے ہرگز کوئی گھبراہٹ نہیں۔لوگوں کو اس امر پر حیرت ہے کہ خدا تعالیٰ یہ باتیں کیوں ہونے دیتا ہے اور مجھے اس امر پر حیرت ہے کہ ان کو اس وقت تک خدا نے کیوں رو کے رکھا۔اگر کوئی شخص بالکل نابینا نہیں، بالکل فاتر العقل نہیں ، بالکل کند ذہن نہیں ، بالکل ہی جاہل نہیں تو وہ پہلے انبیاء کے حالات کو دیکھ کر معلوم