خطبات محمود (جلد 17) — Page 462
خطبات محمود ۴۶۲ ۲۶ سال ۱۹۳۶ خدا تعالیٰ نے اخلاق کی درستی اور مادی ترقی کو مذہب کے تابع کر دیا ہے فرمودہ ۷ار جولائی ۱۹۳۶ء بمقام دھرم ساله) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے سب فطرتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تجویز فرمایا ہے۔دنیا میں مذہب اور اخلاق اور انسان کی وہ ضروریات جو اس کے جسم کے ساتھ وابستہ ہیں وہ ایسی مشترک ہیں کہ ان میں آپس میں فرق کرنا مشکل ہے۔جب کبھی ہم نیچے سے اوپر کی طرف آتے ہیں یعنی جسم کی ضرورتوں کے تقاضوں پر غور کرتے ہوئے اخلاقیات اور پھر مذہب کی طرف آتے ہیں تو بظاہر ساری مادیات کا ہی مجز و معلوم ہوتی ہیں اور اگر ہم اوپر سے نیچے کی طرف آتے ہیں یعنی مذہب سے مادیات کی طرف آتے ہیں تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری کی باتیں مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جو مادیات پر غور کرنے کے عادی ہیں آہستہ آہستہ مذہب کی تمام ضرورتوں اور اس کے تمام احکام کو مادیات کا حصہ قرار دیتے ہیں اور جو مذہب پر غور کرنے کے عادی ہیں وہ ہر ایک شے کو مذہب کا جُز و قرار دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کے نزدیک دنیا کی معمولی سے معمولی بات بھی مذہب کا حصہ ہے۔ہندوستان اور یورپ میں امتیازی نشان ہے کہ ہندوستانی لوگ ہر ایک بات کو خواہ اخلاق سے تعلق رکھتی ہو یا مادیات سے