خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 454

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ ہے مگر جا کر سکول میں دریافت کریں کہ اس قسم کے کتنے لیکچرلڑکوں کے سامنے دیئے جاتے ہیں۔بعض دفعہ تمہیں معلوم ہوگا کہ پانچ سال سے تمہارا لڑکا سکول میں داخل ہے مگر اس قسم کی باتیں ایک دفعہ بھی اس کے کانوں میں نہیں پہنچا ئیں گئیں حالانکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو روزانہ لڑکوں کے سامنے بیان ہونی چاہئیں۔پس علمی کمزوری کی وجہ سے بھی بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں مگر ہمارے سکولوں میں اس قسم کی علمی کمزوری کو دور کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی بلکہ الٹا ایسی تعلیم دی جاتی ہے جو اخلاق کو خراب کرنے والی ہوتی اور خیالات کو پراگندہ کرنے والی ہوتی ہے۔چنانچہ سکولوں میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اگر کسی عورت سے کوئی غیر مرد محبت کرے اور وہ اس کی خواہشوں کا جواب نہ دے تو وہ بے وفا ہوتی ہے۔ہماری پرانی شاعری میں اس کے سوا اور ہے ہی کیا۔یہی اس میں ذکر آتا ہے کہ اگر کوئی مرد کسی لڑکی کو اپنے قابو میں لانا چاہے اور وہ اس کا کہا مان لے تو وہ با وفا ہے، ورنہ بیوفا اور ظالم ہے۔یہ تعلیم اُس وقت دی جاتی ہے جب لڑکی اور لڑکے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہوس کیا ہوتی ہے، محبت کیا ہوتی ہے اور عشق کیا ہوتا ہے اور وصل کیا ہوتا ہے مگر وہ ا شعر پڑھتا اور آہیں بھرتا ہے اور جب اس میں مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے اس قسم کا کوئی منظر آتا ہے تو وہ کہتا ہے اب مجھے ظالم نہیں بلکہ باوفا بننا چاہئے۔پس سکولوں میں اچھی تعلیم تو کیا بُری تعلیم دی جاتی ہے اور ہماری احمد یہ جماعت بھی اس سے مستی نہیں اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جب تک تعلیم کے کورس بدل نہیں دیئے جاتے ، جب تک پرانی شاعری کو لعنت قرار دے کر اُسے الگ پھینک نہیں دیا جاتا، جب تک اس شاعری کا شوق رکھنے والوں کو سزائیں نہیں دی جاتیں اور جب تک ان اشعار کی جگہ ایسے اشعار نہیں پڑھائے جاتے جو اخلاق کیلئے مفید ہوں اُس کی وقت تک اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔تیسری چیز دوسرے کا سہارا ہے جو دو قسم کا ہوتا ہے ایک نگرانی کا اور دوسرا جبر کا۔یعنی کچھ حصہ سہارے کا ایسا ہوتا ہے جو نگرانی پر مشتمل ہوتا ہے۔مثلاً ایک دوست پاس بیٹھ جاتا ہے اور وہ کہتا ہے میں تمہیں فلاں بدی کا ارتکاب کرنے نہیں دوں گا اور ایک سہارا ایسا ہوتا ہے جو جبر پر مشتمل ہوتا ہے۔یعنی اسے مارا پیٹا جاتا ہے، اس پر مجرمانہ کیا جاتا ہے، اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور اس طرح اسے مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ نیک اعمال اختیار کرے۔اس جبر کے نتیجہ میں گوا بتداء