خطبات محمود (جلد 17) — Page 402
خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۶ء کے نتیجہ میں خدا اور اس کے رسول کی عزت بڑھے۔میرا اس سے ہرگز یہ منشاء نہیں کہ آپ لوگ اپنے اس حق کو جو قانونی اور شرعی اور اخلاقی طور پر آپ کا حق ہے چھوڑ دیں۔یہی قبرستان جس پر جھگڑا ہوا ہے اور جس کے اندر واقع ہونے والے گزشتہ حادثہ کے بارہ میں میں اس وقت نصیحت کر رہا ہوں میں مانتا ہوں کہ وہ ہمارا ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں اپنا حق چھوڑ دو ہم اس میں دوسروں کے ساتھ مل کر حصہ دار ہیں ان کا بھی حق ہے کہ وہ اس میں اپنے مُردے دفن کریں اور ہمارا بھی حق ہے اور میں اس حق کو لینے سے ہرگز منع نہیں کرتا بلکہ میں کہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی حکومت ہمیں اس قبرستان میں اپنے مُر دے دفن کرنے سے روک نہیں سکتی جو ہمارے باپ دادوں نے ہبہ کیا ، جس میں ہمارے باپ دادوں کی قبریں موجود ہیں اور جس میں ہمارے بھائی بہنوں کی قبریں موجود ہیں۔اگر ایسے افسروں کے ہاتھ جو اس میں مزاحم ہور ہے ہیں بالا گورنمنٹ نہیں پکڑے گی تو ہمارا خدا ان کے ہاتھ پکڑے گا مگر وہ قبرستان ہمارے ہاتھ سے نہیں جاسکتا۔پس مجھے حق کے لینے پر اعتراض نہیں میں نے قطعی طور پر لوگوں سے کہ دیا تھا۔کہ میری رائے میں ہمیں اپنے اس حق کو ضرور قائم رکھنا چاہئے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس حق کو چھوڑ دیں لیکن سوال اُس طریق کا ہے کہ جسے ہم اپنا حق قائم کرنے کیلئے اختیار کریں اور اُس سلوک کا ہے جو ہم اپنے مخالفوں سے کریں اور اس کے بارہ میں میں یہ صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ وہی ہونا چاہئے جو میں تجویز کروں۔پھر دوسرے لوگوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ فساد کیوں کر رہے ہیں؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ میری ہی خلافت کے ایام میں ہندوؤں کی مڑہیوں کے بارہ میں ایک جھگڑا پیدا ہوا وہ لوگ میرے پاس آئے اور میں نے انہیں مڑہیوں کیلئے زمین دے دی۔چنانچہ وہ زمین ہندوؤں کے پاس ہے اور سرکاری کاغذات میں سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔قادیان کے غیر احمدی شاید ڈرتے ہیں کہ اگر قبرستان ختم ہو گیا تو وہ آئندہ اپنے مُردے کہاں دفن کر سکیں گے مگر وہ خدا کے متعلق اتنا بخل اپنے دلوں میں کیوں رکھتے ہیں؟ کیا اگر یہ قبرستان ختم ہو جائے گا تو خدا اور زمین ان کیلئے مہیا نہیں کر سکتا؟ پھر چاہے قادیان کے سب غیر احمدی احراری ہوں یا غیر احراری انہیں یا درکھنا چاہئے کہ مؤمن کبھی کسی کے مُردے کو سڑنے نہیں دیتا اگر ان کے مُردوں کیلئے کوئی جگہ باقی نہ رہی اور