خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 400

خطبات محمود ۴۰۰ سال ۱۹۳۶ء تھے کہ ایسی حالت میں دشمن کو چھیڑا جائے اسی لئے آپ صحابہ کو جواب دینے سے منع فرماتے رہے کہ دشمن کو انگیخت کرنے کا کیا فائدہ؟ جب انہوں نے سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ بھی مارے گئے ہیں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنهُما بھی مارے گئے ہیں تو ابوسفیان زور سے چلایا اور اُس نے بلند آواز سے نعرہ مار کر کہا اُعْلُ هُبُلُ أعْلُ هُبُلُ - صبل مشرکین مکہ کا بہت بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا ، اُس کا نام لے کر ابوسفیان نے پکارا اُس کی شان بلند ہو کیونکہ صبل آخر توحید پرستوں کے مقابلہ میں جیت گیا، یہ لوگ مارے گئے اور بل کو فتح ہوئی۔جب ابوسفیان نے یہ نعرہ لگا یا تب وہی محمد ﷺ جو تینوں موقعوں پر صحابہ کو خاموش کرتے چلے آئے تھے اور صحابہ بھی اس لئے خاموش تھے کہ رسول کریم کے جواب دینا پسند نہیں فرماتے تھے جب ابوسفیان نے کہا اُعْلُ هُبل اُعْلُ هُبُل تو آپ کی ساری احتیاط اور سارا حرم جاتا رہا اور آپ نے صحابہ سے فرمایا کیوں جواب نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا کہ يَا رَسُولُ اللهِ ! ہم تو اس لئے خاموش ہیں کہ آپ نے ہمیں جواب دینے سے منع فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں اب جواب دو۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا جواب دیں۔آپ نے فرمایا کہو اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ سے تمہارا صبل جھوٹا ہے اللہ ہی ہے جو عزت اور جلال والا ہے۔تو محمد ﷺ کے طریق عمل نے ہم کو بتادیا کہ ہماری غیر تیں کیا اور ہمارے جوش کیا اور ہماری ہمتیں کیا سب خدا اور اس کے رسول کیلئے ہونی چاہئیں۔پس ہزاروں قربانیوں کے موقعے تمہارے لئے موجود ہیں۔سات ہزار کی قادیان کی احمدی آبادی ہے اس میں سے کم سے کم ڈیڑھ ہزار مرد ہوں گے۔میں نے تبلیغ عام کا اعلان کیا ہوا ہے مگر ان میں سے کتنے ہیں جو سال میں سے ایک مہینہ قربان کر کے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام دنیا میں پہنچانے کیلئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم واقعہ میں غیرت مند ہیں تو کیوں ہماری غیر تیں خدا تعالیٰ کے نام کیلئے جوش میں نہیں آتیں۔آخر خدا کے سپاہی اور گاؤں کے گنوار لٹھ باز میں کوئی فرق بھی تو ہونا چاہئے۔وہ فرق یہی ہے کہ گنوار لٹھ باز کی غیرت اس وقت بھڑکتی ہے جب اس کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہولیکن خدا تعالیٰ کے سپاہی کی غیرت اُس وقت بھڑکتی ہے جب خدا تعالیٰ کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہو محمد ﷺ کے گھر پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا گھر چھوڑ دیا، محمد ہے کے وطن پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا لیکن جب خدا تعالیٰ کی صلى الله