خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 383

خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۶ء کیلئے بہت بڑا مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی سے لڑائی کرتا اور اسے گالی دے دیتا ہے اس کے نتیجہ میں اسے ہمیشہ کیلئے گالیوں کی عادت ہو جاتی ہے۔صرف پہلی دفعہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کا سوال ہوتا ہے ورنہ اگر ایک دفعہ بھی کوئی بدی کر لے تو پھر انسان کا قدم لڑکھڑا جاتا اور صحیح راستہ پر بہت مشکل سے قائم ہوتا ہے۔ساتواں سبب جس کہ وجہ سے عقیدہ کی نسبت عمل کی اصلاح زیادہ مشکل ہوتی ہے یہ ہے کہ عقائد کا تعلق خدا تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خشیت ہر وقت سامنے رہتی ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے سامنے آجاتی ہے، جب ہم کہتے ہیں محمد اے خدا تعالیٰ کے رسول ہیں تو محمد ﷺ کی رسالت کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی ذات ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے، جب ہم کہتے ہیں مرنے کے بعد بھی زندگی ہے جس میں انسان کو اعمال کی جزاء وسزا ملے گی تو اس عقیدہ کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کی کی ذات سامنے آجاتی ہے، اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ ہیں جو نیکی کی تحریک کرتے ہیں تو ملائکہ کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی ذات بھی ہمارے سامنے آجاتی ہے ، یا جب ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی قضاء وقدر کا سلسلہ دنیا میں جاری ہے تو قضاء و قدر کے عقیدہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ذات بھی ہمارے سامنے آجاتی ہے۔غرض ہر عقیدہ ایسا ہے جس کا محور خدا تعالیٰ کی ذات ہے اس میں ہمیں نہ غصہ آنے کا کوئی سوال ہوتا ہے نہ لڑائی جھگڑے کا کوئی سوال ہوتا ہے خالص اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اُس کا تقویٰ اس میں کام کر رہا ہوتا ہے اس لئے عقیدہ کی اصلاح مشکل نہیں ہوتی لیکن عملی اصلاح کا تعلق انسانوں سے ہے اور انسانوں سے دشمنی بھی ہوتی ہے، بے تعلقی بھی ہوتی ہے، ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی لالچ ہوتا ہے یا جنہیں ہم سے کوئی غرض ہوتی ہے اس لئے خشیت اللہ کی وہ دیوار جو عقیدہ میں انسان کی حفاظت کر رہی ہوتی ہے عمل میں نہیں کرتی۔ایک انسان دوسرے کو کوئی نقصان پہنچا دیتا ہے کچھ عرصہ کے بعد اتفاقاً دوسرے کو اس کے متعلق کوئی کی گواہی دینی پڑتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ زید نے یہ کام کیا تھا یا نہیں؟ وہ سوچتا ہے اگر میں کہہ دوں نہیں تو اسے نقصان پہنچ جاتا ہے اور اگر ہاں کہہ دوں تو وہ بری ہو جاتا ہے اس پر وہ کہتا ہے اچھا اس نے مجھے فلاں وقت نقصان پہنچایا تھا میں بھی اسے نقصان پہنچا تا ہوں۔اس خیال کے آتے ہی