خطبات محمود (جلد 17) — Page 358
خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۶ء ہے بلکہ اعزاز انسانیت اور مذہب کی طرف سے ضروری ہے بشرطیکہ اس میں بے غیرتی نہ پائی جائے۔اگر پنڈت جواہر لال نہرو صاحب اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کیلئے وہ اپنی تمام طاقتیں خرچ کر دیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رڈ لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیئے جانے کیلئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمد یوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نا معقول اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جبکہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے جو اقوام کے دلوں سے باہمی بغض اور تعصب کو دور کرنے کا موجب ہوسکتی ہے۔میں پہلے بھی کئی بار بیان کر چکا ہوں کہ ایک دفعہ لاہور کے ایک ہندو ڈاکٹر یہاں آئے اور مجھے بھی ملے انہوں نے بتایا کہ چند روز ہوئے گاندھی جی کہہ رہے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں قادیان جاؤں اور جماعت احمدیہ کے امام سے مل کر انہیں اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کروں کیونکہ یہ بہت منظم جماعت ہے اور بہت اچھا کام کر سکتی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ میری طرف سے انہیں کہہ دیں کہ وہ ضرور تشریف لائیں ہم ان کا شاندار استقبال کریں گے میں سب لوگوں کو جمع کروں گا اور خود بھی جلسہ میں شامل ہوں گا۔وہ جتنا عرصہ چاہیں تقریر کریں اگر ان کے خیالات سے مجھے اختلاف ہوا تو بعد میں میں بھی تقریر کروں گا اور اگر ان کی بات کا مجھ پر اثر ہوا تو میں مان لوں گا اور اگر ان پر میری بات کا اثر ہوا تو وہ مان لیں۔یہ اُس وقت کی بات ہے جبکہ گورنمنٹ کے کسی حصہ کے ساتھ ہمارے اختلاف کا کوئی سوال ہی نہ تھا بلکہ لوگ ہمیں حکومتی کے خوشامدی کہتے تھے اور حکومت بھی ہمیں اپنا دوست سمجھتی تھی۔اُس وقت میں نے کہا تھا کہ ہم گاندھی جی کا شایان شان استقبال کریں گے۔پس اگر نہر وصاحب کے لاہور آنے پر نیشنل لیگ نے جس کا وہاں مرکزی دفتر ہے ( آل انڈیا نیشنل لیگ کا مرکزی دفتر قادیان میں نہیں بلکہ لاہور میں ہے ) اگر ان کا استقبال کیا تو یہ عین شرافت اور اچھی مثال کہلائے گا نہ کہ قابلِ اعتراض۔یہ خیال کہ جس سے اختلاف ہو اُس کا اعزاز نہیں کرنا چاہئے بالکل غلط ہے۔ہم