خطبات محمود (جلد 17) — Page 315
خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۶ء بلکہ ہندوستان سے باہر بھی شور پڑ گیا۔مسلمان حیران تھے اور وہ اپنے کھلے ہوئے مونہوں اور پھٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جس طرح ایک غشی میں مبتلا ہونے والا انسان سکتہ کی حالت میں پڑ جاتا ہے اس دعوی کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلان پر نہایت ہی تعجب کر رہے تھے۔وہ حیران تھے کہ ایک سمجھدار انسان ایسی بات کس طرح قبول کر سکتا ہے اور کس طرح لوگوں کے سامنے اسے پیش کر سکتا ہے۔ان کے نزدیک دنیا کی ثابت شدہ حقیقوں میں سے سب سے زیادہ ثابت ھدہ حقیقت یہی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر بیٹھے ہیں سوائے نیچریوں کے جن کی تعداد بہت تھوڑی تھی باقی تمام مسلمان نئی تعلیم کے حاصل کرنے والے کیا اور پُرانی تعلیم کے حاصل کرنے والے کیا ، پیر کیا اور مولوی کیا ، امیر کیا اور ی غریب کیا، پیشہ ور کیا اور غیر پیشہ ور کیا ، ان میں سے ہر ایک حیرت میں تھا کہ ایسی موٹی بات کو یہ شخص کس طرح رڈ کر رہا ہے۔لوگوں کو اس مسئلہ کے متعلق جس قدر یقین اور وثوق تھا وہ ایک واقعہ اور ایک مثال سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے۔پنجاب کے ایک مشہور طبیب جن کی طبی عظمت کے حضرت خلیفہ اول جیسے طبیب بھی قائل تھے اُن کے متعلق حضرت خلیفہ اول کا ہی بیان ہے کہ ایک دفعہ اُن کے پاس مولوی فضل دین صاحب مرحوم بھیروی جو حضرت خلیفہ اول کے گہرے دوست اور نہایت مخلص احمدی تھے گئے اور انہیں کچھ تبلیغ کی۔وہ باتیں سن کر کہنے لگے میاں ! تم مجھے تبلیغ کرتے ہو تم بھلا جانتے ہی کیا ہو اور مجھے تم نے کیا سمجھانا ہے۔مرزا صاحب کے متعلق تو جو مجھے عقیدت ہے اس کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی تمہیں ان سے عقیدت نہیں ہوگی۔مولوی فضل دین صاحب مرحوم یہ سن کر بہت خوش ہوئے کی اور انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ دل میں احمدی ہیں اس لئے انہوں نے کہا اس بات کو سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو حضرت مرزا صاحب سے عقیدت ہے اور میں خوش ہوں گا اگر آپ کے خیالات سلسلہ کے متعلق کچھ اور بھی سنوں۔وہ کہنے لگے آج کل کے جاہل نو جوان بات کی تہہ تک نہیں پہنچتے اور یونہی تبلیغ کرنے کیلئے دوڑ پڑتے ہیں۔اب تم آگئے ہو مجھے وفات مسیح کا مسئلہ سمجھانے ، حالانکہ تمہیں معلوم کیا ہے کہ مرزا صاحب کی اس مسئلہ کے پیش کرنے میں حکمت کیا ہے۔وہ کہنے لگے آپ ہی فرمائیے۔انہوں نے کہا سنو ! اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے کی