خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 31

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء نے کبھی فوجی جنگ نہیں دیکھی۔مگر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر چاہوں تو فوجی نظام پر ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اور میں الہی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ بہترین جرنیل وہی ہے جو فوج کو عقل کے ساتھ پھیلا سکتا ہے۔یعنی بغیر اس کے کہ دشمن کو اپنے کسی کمزور مقام پر حملہ کرنے کا موقع دے وہ اپنی فوج کو پھیلاتا چلا جائے کیونکہ اس طرح دشمن ہمیشہ اس کے نرغہ میں گھر جانے کا خطرہ میں رہتا ہے۔پس اس کی دانائی یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور مقاموں کا دشمن کو پتہ نہ لگنے دے تا دشمن اس پر حملہ نہ کر دے لیکن اپنے لشکر کو پھیلا تا چلا جائے تا دشمن اس کے نرغہ میں گھر جائے۔یہ وہی وَسِعُ مَكَانَگ والی پالیسی ہے جس کا خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں ذکرفرمایا اور ہمیں بتایا کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے تو وَسِعُ مَكَانَگ کے حکم پر عمل کرنا می یعنی اور پھیل جانا۔پھر حملہ کرے تو اور زیادہ پھیل جانا۔پھر حملہ کرے تو اور زیادہ پھیل جانا۔پس کی اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاں قادیان میں بڑھنے کا حکم دیا وہاں ساری زمین پر پھیل جانے کا بھی حکم دیا ہے۔قرآن کریم میں بھی یہ علم موجود ہے اور دراصل قرآن ہی تمام علوم کا اصل منبع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات تو اس کی تشریح ہیں مگر قرآن مجید سے یہ معارف وہی نکال سکتا ہے جو اپنے دل کی آنکھیں کھول کر اسے پڑھے۔پس یہ دو چیزیں ہیں جن پر جماعت اگر عمل کرے تو وہ دشمن کے حملہ سے بالکل محفوظ ہو جائے۔یعنی قادیان میں مکانات بناتے جاؤ اور دنیا میں پھیلتے جاؤ یہاں تک کہ ساری دنیا پر تمہارا قبضہ ہو جائے۔جو جماعتیں ایک جگہ رہتی ہیں وہ ہمیشہ چلی جاتی ہیں۔اگر ہماری جماعت پنجاب میں محدود ہوتی تو سوچو پچھلا زمانہ کتنا خطرناک آیا تھا اور کیا اگر ہماری جماعت صرف پنجاب میں محدود ہوتی تو وہ چلی نہ جاتی ؟ اب بھی خطرہ کچھ کم نہیں ہو ا صرف اس نے اپنی شکل بدل لی ہے ورنہ خطرہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔میں اس کی تفصیلات میں نہیں پڑ سکتا مگر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خطرہ پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی اور احرار کی طرف سے بھی۔جب انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ قوم بیوقوف نہیں کہ یونہی آسانی سے اسے پکڑا جا سکے تو ان کے حملہ نے اب عقلمندانہ شکل اختیار کر لی ہے۔بے شک جماعت کے خلاف بدظنی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی مگر وہ افسر جو اس دھوکا میں ہیں کہ ہماری جماعت حکومت کے خلاف بغاوت کی تعلیم دینے لگ گئی ہے جب ان کی آنکھیں گھلیں گی اُس وقت اور