خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 309

خطبات محمود ۳۰۹ سال ۱۹۳۶ء مجھے کئی ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا کہ جو اس وجہ سے اولاد سے کام نہیں کراتے کہ گرمی زیادہ ہے بھو کے مریں گے مگر جب کہا جائے کہ جو کارخانے کھولے جا رہے ہیں ان میں اولا دکو داخل کر دو تو کہیں گے کہ وہاں گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ہم تو گرم ملک کے رہنے والے ہیں مگر سرد ملک کے رہنے والے انگریز گرمی میں کام کرنے سے نہیں گھبراتے۔انگلستان میں چھ ماہ تو برف ہی پڑتی رہتی ہے اور گرمیوں میں بھی اتنی سردی ہوتی ہے کہ آدمی ٹھٹھر نے لگتا ہے۔جب میں وہاں گیا تھا تو سخت گرمی کا موسم تھا حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے گرم پاجامہ پہنا اور کہنے لگے کہ میں نے ہندوستان میں سخت سردیوں کے موسم میں بھی اسے کبھی نہ پہنا تھا مگر ایسے سرد ملک کے رہنے والے لوگ انجنوں پر کام کرتے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انگریزوں نے نوکریاں سنبھال لی ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ کیوں نہ سنبھالیں وہ نہیں سنبھالیں گے تو کیا وہ سکتے لوگ سنبھالیں گے جو گر می گرمی پکارتے ہیں اور اولا دوں کو گھروں میں بریکار بٹھائے رکھتے ہیں۔میں نے الفضل والوں سے کہا تھا کہ وہ شہروں میں ایجنسیاں قائم کریں مگر وہ شکایت کرتے ہیں کہ نو جوان یہ کام نہیں کرتے اور اگر کوئی کرتا ہے تو وہ روپیہ نہیں دیتا جس قوم کے نوجوان چند پیسے بھی لے کر ادا نہ کریں اور بے کار پھریں کام کیلئے تیار نہ ہوں وہ کب امید کر سکتی ہے کہ زندہ رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس سے مخالف مراد ہیں مگر جماعت کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے اور اس نالی پر ہزار ہا بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سر نالی کے کنارہ پر ہے اس غرض سے کہ تا ذبح کرنے کے وقت ان کا خون نالی میں پڑے، ہر ایک بھیٹر پر ایک قصاب بیٹھا ہے اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو ہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے گویا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کیلئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے، تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمُ : یعنی میرا خدا تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو۔میرا یہ کہنا تھا کہ فرشتوں نے فی الفور اپنی بھیڑوں پر