خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 278

خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۶ جھوٹ بولنا ہے ایک جگہ ایک رنگ میں جھوٹ بول دیا اور دوسری جگہ دوسرے رنگ میں۔گویا وہ ای سمجھتے ہیں کہ احرار اتنے احمق ہیں کہ وہ ان دونوں جھوٹوں کو جو آپس میں بالکل متضاد ہیں صحیح ماننے کی کیلئے تیار ہو جائیں گے۔اس جھوٹ کو بھی وہ درست سمجھیں گے کہ میری جوان بیٹیاں لوگوں کے گھروں پر مانگنے جاتی ہیں اور اس جھوٹ کو بھی صحیح قرار دیں گے کہ میں لوگوں کو ٹوٹ ٹوٹ کر کنگال بنا چکا ہوں اور عقل وسمجھ سے کام لے کر ذرہ بھر بھی نہیں سوچیں گے کہ اگر یہ سچ ہے کہ میں لوگوں کو لوٹ لوٹ کر بہت بڑا امیر بن چکا ہوں تو پھر یہ جھوٹ ہے کہ میری جوان بیٹیاں قادیان میں ٹکڑا سے محتاج لوگوں کے گھروں پر مانگنے جاتی ہیں اور اگر یہ صحیح ہے کہ میری جوان بیٹیاں لوگوں کے گھروں پر مانگنے جاتی ہیں تو پھر یہ جھوٹ ہے کہ میں نے قادیان کے لوگوں کو لوٹ لوٹ کر انہیں کنگال بنادیا ہے مگر وہ اس فرق کو نہیں سوچیں گے اور بلا سوچے سمجھے ان دونوں جھوٹوں کو صحیح تسلیم کرلیں گے۔جو جماعت ایسی گدھی اور احمق ہو جائے یا جس کے لیڈرا سے اتنا احمق اور بیوقوف سمجھتے ہوں اُس نے دنیا میں کام کیا کرنا ہے اور کونسی خدمت دین کر سکتی ہے وہ تو آج بھی تباہ ہوئی ہے اور کل بھی تباہ ہوئی۔پھر اس کے بعد دوسرا جھوٹ بولا گیا ہے کیونکہ آخر چند دنوں کے بعد اخبار میں کوئی اور دلچسپ خبر بھی تو ہونی چاہئے تھی کہ اب لوگوں سے خلیفہ کی بیٹیاں مانگ مانگ کر چونکہ تھک گئی ہیں ی اور کچھ وصول نہیں ہوتا اس لئے انہوں نے اپنی بیویوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں پر مانگنے کیلئے جایا کریں۔چنانچہ احرار کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ احمدیوں کے خلیفہ نے اپنی نی چاروں بیویاں بلائیں اور ان سے کہا کہ پہلے تو میں تمہارے سنگھار پر تم سے محبت کیا کرتا تھا مگر اب لوگوں کے گھروں سے مانگنے پر تم سے محبت کیا کروں گا اور جتنا جتنا زیادہ کوئی بیوی مانگ کر لائے گی اتنی ہی زیادہ میری محبت اُسے حاصل ہوگی۔لکھا ہے کہ جب میری بیویوں نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا۔ہم آپ کے حکم کی تعمیل میں لوگوں کے گھروں سے مانگ کر لایا کریں گی۔مگر جو میری چوتھی بیوی ہیں ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے انکار کیا اور کہا میں تو ہرگز گھروں پر جانے اور لوگوں سے مانگنے کیلئے تیار نہیں اور چونکہ اس جواب کا باقی بیویوں پر اثر پڑا ہے اس لئے اب سکیمیں سوچی جارہی ہیں کہ اُس بیوی کو کس طرح سزا دی جائے تاکہ وہ بھی باقی