خطبات محمود (جلد 17) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۶ء تو اس ارادہ کے پیدا ہونے کے بعد انہیں روپیہ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوگی۔رنگون سے ابھی ہماری جماعت کے دو دوستوں کا مجھے خط ملا ہے ، ان میں سے ایک جالندھر کا رہنے والا ہے اور ایک اسی جگہ کے قریب کسی اور مقام کا۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم آپ کی اس تحریک کے ماتحت گھر سے پیدل چل پڑے اور اب پیدل چلتے ہوئے رنگون پہنچ گئے ہیں اور آگے کی طرف جارہے ہیں۔گجا جالندھر اور گجا رنگون ، پندرہ سو میل کا سفر ہے لیکن انہوں نے ہمت کی اور پہنچ گئے۔راستہ میں بیمار بھی ہوئے لیکن دو ماہ بیمار رہنے کے بعد پھر چل پڑے اب وہ سٹریٹ سیٹلمنٹس کے علاقہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔تو ہمت کر کے کام کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے کام کے راستے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان ہمت کر کے باہر نکل جائیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنہیں یہاں کام کا موقع ملا ہوا ہے وہ بھی باہر چلے جائیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو یہاں کام نہیں ملتا وہ باہر جائیں اور جنہیں یہاں کام ملا ہوا ہے وہ یہاں کام کریں۔اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے اس کیلئے روپوں کی ضرورت نہیں۔اگر ہمت کریں تو وہ پیدل بھی جاسکتے ہیں۔دوسری تحریک جسے آج میں پھر دُہرانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جب کام بڑھتے ہیں تو اس وقت کام کرنے والوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور اگر کام کرنے والے نہ ملیں تو کئی ضروری کام رہ جایا کرتے ہیں۔ہمیں بھی سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس وقت ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہمت ، طاقت اور صحت رکھتے ہوں۔مثلاً بریکاروں کو کام پر لگانے کی تحریک جو میں نے کی ہے اس میں کئی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ان کاموں کی نگرانی کر سکیں۔آخر یہ کام یونہی نہیں ہو جائیں گے بلکہ ان کیلئے نگرانوں کی ضرورت ہوگی اور ہمارے پاس پہلے ہی کام کرنے والے آدمی کم ہیں پھر ان کاموں کی نگرانی کیلئے کہاں سے آدمی میسر آئیں گے۔اس غرض کیلئے میں نے تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت میں جو لوگ پنشنر ہیں وہ خدمات سلسلہ کیلئے اپنی زندگی وقف کریں۔ساری عمر انہوں نے دنیا کے کاموں میں گزار دی اب کیوں وہ اِس کام کو اختیار نہیں کی کرتے جس کے کرنے سے انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔بے شک یہ کام تجارتی ہوگا ہی مگر سوال یہ ہے کہ یہ تجارت کس لئے ہوگی؟ جب یہ تجارت غرباء ومساکین اور یتامی و بیوگان کے فائدہ کیلئے ہوگی تو یقیناً اس تجارت میں حصہ لینا بھی ویسی ہی عبادت ہے جیسے نماز عبادت ہے، جیسے