خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 241

خطبات محمود ۲۴۱ ۱۴ سال ۱۹۳۶ ستیاں ترک کر وطالب آرام نہ ہو ( فرموده ۲۴ را پریل ۱۹۳۶ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی۔يْأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلقِيْهِ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَ يَنْقَلِبُ إِلَى اَهْلِهِ مَسْرُورًا وَ اَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتبَهُ وَرَاءَ ظَهْرم فَسَوْفَ يَدْعُوا ثَبُورًا وَّ يَصْلَى سَعِيرًا إِنَّهُ كَانَ فِى اَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا ل - اس کے بعد فرمایا:- دنیا کی اصلاح کوئی ایسی معمولی بات نہیں کہ بغیر خاص توجہ اور خاص تدابیر کے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے مگر عجیب بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز کیلئے کسی توجہ کی ضرورت محسوس کرتا ہے مگر نہیں کرتا تو بنی نوع انسان کی اصلاح کی طرف توجہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اس طرح جو سب سے قیمتی ہے چیز ہے وہ سب سے زیادہ نظر انداز کی جاتی ہے۔زمیندار ایک بھینس رکھتا ہے یا ایک گھوڑی رکھتا ہے۔تم اس کے گھر میں تھوڑی دیر جا کر دیکھ لو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ اپنے دن کا کافی حصہ گھوڑی یا بھینس کی خبر گیری میں صرف کرتا ہے۔اس کے پاس تھوڑی سی زمین ہوتی ہے مگر اس کی نگہداشت کی کیلئے کافی عرصہ صرف کرتا ہے لیکن تم چوبیس گھنٹے ایک زمیندار کے گھر میں رہ کر اگر یہ معلوم کرنا چا ہو کہ وہ کتنا وقت اپنے بچے کی اصلاح میں صرف کرتا ہے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ ایک منٹ بھی