خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 226

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء دیا اور لیگ والوں نے یہ بھی نہیں کیا کہ قطعی طور پر حکومت سے کہ دیا ہو کہ ہم اب خود جواب دینے لگے ہیں۔ان حالات میں عقلاً یہ بات اچھی نہیں معلوم دیتی اور جو بات عقلاً بھلی معلوم نہ دے وہ طبائع پر اچھا اثر نہیں ڈالتی مثلاً اگر کوئی شخص کسی عدالت میں مقدمہ دائر کر کے اس کے فیصلہ سے قبل ہی اپیل دائر کر دے تو اسے کوئی بھی معقول نہیں کہے گا اس لئے میرے نزدیک یہی مناسب ہے کہ اب بھی حکومت پر زور دے کر اس سے جواب لیا جائے یا اسے کہہ دیا جائے کہ چونکہ حکومت بلا وجہ دیر کر رہی ہے ہم اس کے فیصلہ کا اب انتظار نہیں کر سکتے اور اس وقت تک اپنے طور پر کوئی طریق اختیار نہ کیا جائے۔اس کے بعد میں وہ سوال لیتا ہوں جو حکومت اور پبلک کے دل میں بھی پیدا ہورہا ہے اور ی جو میرے نزدیک واقعی ایسا ہے کہ اس کا جواب دیا جائے اور وہ سوال یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی کیا اس کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ حکومت کوئی مزید کارروائی کرے جبکہ ہمارے لئے یہ راستہ کھلا ہے کہ اس فیصلہ کو شائع کریں تو حکومت کی طرف سے کسی کارروائی کی کیا ضرورت ہے۔یہ سوال بظاہر نظر معقول ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہائی کورٹ کے فیصلہ کی موجودگی میں بھی ہم مسٹر کھوسلہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہیں تو اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہئے اور ہمیں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے کہ اس کے بعد ہمارے لئے کیا مشکل باقی رہ جاتی ہے۔اس کی سوال کا جواب میں آج کے خطبہ میں دینا چاہتا ہوں۔اس میں شبہ نہیں کہ مزید کاروائی کی ضرورت ہے اور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے شکوہ ، ہمارے دکھ اور ہمارے نقصان کو دور کرنے کیلئے کافی نہیں اور اس کی دو وجوہ ہیں۔ایک تو یہ کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی پہلا فیصلہ برابر شائع کیا جا رہا ہے اور حکومت اسے نہیں روکتی۔جن لوگوں تک وہ فیصلہ پہنچتا ہے قدرتی طور پر ان کے دلوں میں کچھ خیالات پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان کے ذریعہ اور لوگوں میں بھی پھیلتے ہیں پھر ہر شخص جس تک یہ فیصلہ پہنچتا ہے ضروری نہیں کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی اُسے مل سکے۔اب حکومت بتائے کہ اس حالت کا علاج ہمارے پاس کیا ہے۔اگر حکومت اُسے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے معا بعد ضبط کر لیتی تو ہم کہتے کہ آئندہ نقصان کا تو انسداد ہو گیا اور گزشتہ پر اس حصہ کے متعلق ہم صبر