خطبات محمود (جلد 17) — Page 200
خطبات محمود ۲۰۰ 11 سال ۱۹۳۶ء عجز وانکسار سے دعائیں کرو اور اپنی اصلاح میں لگ جاؤ (فرموده ۱/۳ پریل ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس ہفتہ سے وہ روزوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے متعلق دو تین ہفتے ہوئے میں نے جماعت کے دوستوں کو ہدایت کی تھی اب آئندہ ہفتہ میں اِنشَاءَ اللہ دوسرا روزہ آئے گا اور ا اس طرح سات ہفتوں میں خدا کے فضل سے اور اس کی مدد کے ساتھ وہ دعا کا پروگرام ختم ہوگا جس کی کے متعلق میں اعلان کر چکا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة له - مؤمن کو جب و کبھی وہ مشکلات میں مبتلاء ہو تو صبر اور نماز و دعا سے مدد طلب کرنی چاہئے۔صبر کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ انسان ان مصائب اور مشکلات اور اذیتوں کو برداشت کرے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت اس کے مخالفوں کی طرف سے اسے پہنچ رہی ہوں لیکن صبر کے معنے روزہ کے بھی ہیں ، صبر رُک رہنے کا نام ہے اور صوم بھی رُک رہنے کا نام ہے دونوں لفظ ہم معنی ہیں جس طرح انسان مصائب کی اور مشکلات کے موقع پر گھبراہٹ سے رُکا رہتا ہے اسی طرح روزہ میں کھانے پینے سے رکا رہتا ہے۔پس صبر کے معنے جہاں تکالیف کی برداشت کے ہیں وہاں اس کے معنے روزہ کے بھی ہیں بلکہ صبر روزہ صلى الله کا زیادہ ہم معنی ہے بہ نسبت اذیتوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کے کیونکہ رسول کریم می نے فرمایا ہے کہ ہر عمل کی کوئی جزاء ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ کی جزاء میں خود ہوں سے یعنی