خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 173

خطبات محمود ۱۷۳ سال ۱۹۳۶ء اور انگریزی فوجوں کے متعلق تو وہی حقیقت درست ہے جو ایک کانگرسی نے کہی کہ ۳۳ کروڑ ہندوستانی تو تھوک تھوک کر سپاہیوں کو بہا سکتے ہیں۔اور واقعہ میں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر لوگ کی مرنے کیلئے تیار ہو جائیں تو ۳۳ کروڑ اتنی بڑی تعداد ہے کہ وہ انگریزی فوجوں کا بخوبی مقابلہ کر سکتی ہے مگر وہ مرنے کیلئے تیار نہیں اور اس لئے تیار نہیں کہ انگریزوں کا دلوں پر رعب ہے۔پس انگریزی حکومت کی تقویت فوجوں کے ذریعہ نہیں بلکہ اس کے قومی کیریکٹر ، انصاف اور رعب کی وجہ سے کی ہے اور یہ چیز ایسی ہے کہ باوجود انگریزوں کو زبان سے گالیاں دینے کے جب اس قوم کی مخالفت کا وقت آتا ہے لوگ یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خبر نہیں دوسری حکومت اس سے اچھی ملے یا نہ ملے۔جس دن یہ خیال لوگوں کے دلوں سے اُٹھ گیا ، جس دن یہ رُعب لوگوں کے قلوب سے جاتا رہا کہ انگریزی حکومت کا انصاف اور قومی کیریکٹر مضبوط ہے اُس دن نہ انگریزوں کی تو ہیں کام آئیں گے نہ فوجیں کام آئیں گی بلکہ انہیں اپنا بوریا بستر باندھ کر اپنے ملک کو جانا پڑے گا۔جرمنی سے بھی تو ہیں وغیرہ لے کر اس کو بے دست و پا کر دیا گیا تھا یہاں تک کہ تنہا بیلجیئم بھی اسے گھور لیتا تھا مگر آج یورپ کی آدھی طاقتیں ایک طرف جرمنی کو تیوری چڑھا کہ دیکھتیں اور دوسری طرف چھلانگ لگا کر دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہیں کہ کہیں جرمن تھپڑ نہ ماردے۔بالکل اسی طرح جس طرح بلیاں آپس میں لڑتی ہیں پہلے ایک بلی غرغر کرتی ہے پھر چھلانگ لگا کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔جرمن بھی نہتا تھا مگر جب اس قوم کے افراد نے کہا ہم اب ذلت برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ عمل میں نکل کھڑے ہوئے تو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی تو ہیں دھری کی دھری رہ گئیں اور انہوں نے خود تو ہیں اور بندوقیں بنا کر دکھا دیں۔پس قوم جس دن تیار ہو جاتی ہے اُس دن کوئی طاقت اُس کے ارادوں میں مزاحم نہیں ہو سکتی اور قوم کے تیار ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس قوم کے افراد جو فوجوں میں ہوں وہ بھی خلاف ہو جائیں، جو عہدوں پر ہوں وہ بھی خلاف ہو جائیں اور سب مل کر مقابلہ کریں ایسی صورت میں تھوڑی سی انگریزی فوج بھلا کیا کر سکتی ہے۔لیکن کیوں لوگ انگریزوں کا مقابلہ نہیں کرتے ؟ اس لئے کہ وہ دلوں میں سمجھتے ہیں انگریز انصاف کو پسند کرتے ہیں۔یہ لوگوں کا یقین ہے کہ جو انگریزی حکومت کو تقویت دے رہا ہے ورنہ انگریزوں کی فوجیں ان کی حکومت کو تقویت نہیں ہے