خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 16

خطبات محمود ۱۶ سال ۱۹۳۶ء سلطان نجد ہیں وہ نماز سب لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ہی پڑھتے ہیں۔پس مسجد میں چھوٹے کی بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا اور نہ کوئی شخص خواہ کتنا بڑا ہو کسی اور شخص کو خواہ وہ کتنا چھوٹا ہو بیٹھے ہوئے ایک جگہ سے اُٹھا سکتا ہے سوائے قیامِ امن کی ضرورت کے ماتحت کہ وہ بالکل علیحدہ چیز ہیں۔نماز کیلئے ہر شخص کا حق ہے کہ وہ جہاں چاہے مسجد میں نماز پڑھے۔پس مسجد ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں امیر غریب، چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔امیر اور غریب پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں اور ایک مزدور بادشاہ کے پہلو میں کھڑا ہو سکتا ہے اور بادشاہ کا حق نہیں کہ اسے رو کے۔تو جب رسول کریم ﷺ نے فرما یا جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا تو درحقیقت آپ نے یہ بھی فرما دیا کہ تمام دنیا کے امتیازات میرے ذریعہ مٹا دئیے گئے ہیں کیونکہ مسجد میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا اور نہ اس میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی سوال ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس میں کوئی قومی امتیاز نہیں اس کے مقابلہ میں عیسائیوں کو لو تو ، ہندوؤں کو لو تو ان کے گرجوں اور مندروں میں ہمیشہ امتیاز ہوتا۔بلکہ اگر جوں میں تو جگہیں بھی مخصوص ہوتی ہیں جو بڑی بڑی رقمیں دیں ان کیلئے خاص کوچ(COACH) ہوتے ہیں۔یہی حال منادر کا ہے کہ ان میں بھی قومی امتیاز کا خیال رکھا جاتا ہے مگر اسلامی مسجد ان تمام پابندیوں سے آزاد ہے اور جس طرح لوگ آتے ہیں بیٹھتے چلے جاتے ہیں۔اگر آگے جگہ خالی نہ ہو تو بعد میں آنے والا پیچھے بیٹھ جاتا ہے ورنہ چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔پس بڑے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے مساجد میں فرق نہیں کیا جاتا اور نہ ملکی لحاظ سے مساجد میں فرق کیا جاتا ہے۔اور میں نے جب کہا ہے کہ مساجد میں نہ ملکی لحاظ سے فرق کیا جاتا ہے اور نہ بڑے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے تو درحقیقت میں نے اس میں ایک استثنائی صورت رکھی ہے۔مگر وہ استثنائی صورت ایسی نہیں جسے کوئی بھی عقلمند ناجائز قرار دے سکے اور وہ یہ کہ مسجد میں مثلاً ایک پاگل آجائے جس کی عادت یہ ہو کہ وہ لوگوں پر حملہ کر دیتا ہو تو ایسے شخص کو اگر پکڑ کر لوگ مسجد سے نکال دیں تو یہ جائز ہوگا اور یہ امتیاز نہ کہلائے گا کیونکہ اُس شخص کو مشرقی یا مغربی ہونے کے لحاظ سے مسجد سے نہیں نکالا جائے گا بلکہ ضرر رساں اور نقصان دہ ہونے کی وجہ سے مسجد سے نکالا جائے گا۔یا اگر کوئی مسجد میں ایسا دشمن آ جائے جس کے متعلق شبہ ہو کہ وہ کسی فتنہ اور فساد کی نیت سے آیا ہے تو اگر اسے نماز پڑھنے سے روک دیا جائے