خطبات محمود (جلد 17) — Page 15
خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۳۶ء عبادت نہیں ہو سکتی۔اگر کسی جگہ مسجد نہ ہو اور کوئی مسلمان سفر کر رہا ہو تو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہی جگہ مسجد اور وہی جگہ عبادت گاہ ہو جائے گی۔مگر مسجد ایک خدا کا گھر بھی ہے جہاں لوگ جمعی۔ہوتے ہیں۔پس جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا کے یہ معنے بھی ہیں کہ جس طرح سارے لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور وہاں چھوٹے بڑے، امیر اور غریب کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا اسی طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے بھی ملکوں کا کوئی امتیاز نہیں۔جس طرح مسجد خدا کا گھر کہلاتی ہے اسی طرح ساری دنیا ہمارے خدا کا گھر ہے۔پس یہ کہنا کہ یہ چینی ہے اور وہ جاپانی ، یہ مشرقی ہے اور وہ مغربی ایک فضول بات ہے۔جس طرح ایک مسجد میں بیٹھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں مسجد کے شمالی کونے میں بیٹھا ہوں اور وہ جنوبی میں یا فلاں مشرقی کونے میں ہے اور فلاں مغربی میں اس لئے میں اُس سے ممتاز ہوں بلکہ سارے ایک ہی مسجد میں سمجھے جاتے ہیں کی اسی طرح جب ساری دنیا مسجد ہے اور محمد ﷺ کے ذریعہ ساری دنیا ایک خدا کا گھر بنا دی گئی ہے تو اس دنیا کے جس حصہ میں بھی کوئی انسان بیٹھا ہو وہ خدا کے گھر میں بیٹھا ہے۔چنانچہ ہر مسلمان جانتا ہے بلکہ اب تو غیر مسلم بھی جاننے لگ گئے ہیں کہ مسجد وہ مقام ہے جس میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔میں نے مسجد کعبہ کے ایک سرے پر ایک چھوٹی سی جگہ حجرے کی شکل میں الگ بنی ہوئی دیکھی۔اس کے متعلق جب میں نے دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں شرفاء بعض دفعہ نماز پڑھتے ہیں۔مکہ کے حاکم چونکہ شریف کہلاتے تھے اس لئے شرفاء سے مکہ کے حکمران مراد تھے۔میں نے کہا یہ الگ کیوں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شریف کو بعض وقتیں پیش آئی تھیں جس کی بناء پر یہ الگ انتظام کرنا پڑا۔چنانچہ ایک دفعہ اُس نے کسی مسلمان سے کہا کہ تم یہاں سے پیچھے ہو کر کھڑے ہو جاؤ تو اس نے جواب دیا یہ شریف کا گھر نہیں بلکہ خدا کا گھر ہے اگر شریف کا گھر ہوتا تو میں چلا جا تا لیکن یہ خدا کا گھر ہے اور اس میں سے مجھے کوئی نکال نہیں سکتا۔چنانچہ بادشاہ ہونے کے باوجود اسے اس کا حق تسلیم کرنا پڑا اور سیاسی احتیاطوں کیلئے اسے علیحدہ جرہ بنانا پڑا تا کہ اگر کسی وقت لوگوں سے الگ رہنے کی ضرورت ہو تو شریف یعنی مکہ کے حاکم اس میں نماز ادا کر سکیں ور نہ اصل مسجد میں وہ مجبور تھے کہ دوسروں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔اب جو موجودہ