خطبات محمود (جلد 17) — Page 135
خطبات محمود ۱۳۵ سال ۱۹۳۶ء کام کر رہا ہوتا ہے اور گو زبان بندوں کی ہوتی ہے مگر دماغ پر خدا تعالیٰ کا قبضہ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی انتخاب کرتا ہے اور وہ بندوں کا نہیں بلکہ خدائی انتخاب کہلا تا ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں تعطل اور تعطیل کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان اصولوں پر اپنے تمام کاموں کو چلائیں جو اسلامی بنیاد اور عمارت کے ساتھ وابستگی اور مطابقت رکھیں۔اگر ہم اس طریق کو اختیار نہیں کرتے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسلامی حکومت دنیا میں قائم کرنا نہیں چاہتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری قادیان کی جماعت میں بعض دفعہ جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، کہیں دُکانداروں کو شکوہ ہو جاتا ہے کہ ہمارے ریٹ کم ہیں، کہیں لوگوں کو یہ شکایت پیدا ہو جاتی ہے کہ دکانداروں کے ریٹ زیادہ ہیں۔ابھی گل مجھے دُکانداروں کے ایک حصہ کے متعلق معلوم ہوا کہ اُس نے اِس لئے سٹرائک کر دی کہ اُن کے ریٹ کم مقرر کئے گئے ہیں۔اس وجہ سے میں پھر ایک دفعہ تمام جماعت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا طریق اسلامی ہے غیر اسلامی نہیں۔اگر کسی کا حق ثابت ہے مگر دوسرا شخص اُسے نہیں دیتا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ جس شخص کو حق نہیں ملتا خلیفہ اُس کے ساتھ ہے اور اگر اپنے حق کے حاصل کرنے کیلئے غیر اسلامی طریق اختیار کیا جائے گا تو پھر خلیفہ اُس کا ساتھ نہ دے گا۔خلیفہ خدا تعالیٰ کا قائم مقام ہے وہ نہ مردوں کا ہے نہ عورتوں کا ، نہ چھوٹوں کا ہے نہ بڑوں کا ، نہ مزدوروں کا ہے نہ سرمایہ داروں کا ، وہ نہ مشرقی ہے نہ مغربی بلکہ اُس کا تعلق اُس ہستی کے ساتھ ہے جو سب سے بالا ہو کر ہر ایک کو ایک نظر سے دیکھ رہی ہے اس لئے کوئی کسی کا حق خلافت کی کی موجودگی میں غصب نہیں کر سکتا۔خواہ گا ہک کا حق ہو یا دکاندار کا، خواہ مزدور کا حق ہو خواہ سرمایہ دار کا ، ہر ایک کے ساتھ عدل کیا جائے گا اور ہر ایک کو انصاف کے ساتھ اُس کا حق دلایا جائے گا لیکن دیکھنا یہ پڑے گا کہ آیا عدل حاصل کرنے کیلئے وہی طریق اختیار کیا گیا ہے جو اسلامی ہے یا غیر اسلامی طریق اختیار کیا گیا ہے۔جو شخص عدل حاصل کرنے کیلئے غیر اسلامی طریق اختیار کرے گا یقیناً اُس سے کسی طرح نرمی نہیں کی جائے گی کیونکہ اس طرح ان امور میں بھی اسلامی حکومت کا قائم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے جن امور میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔پس اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو اور چونکہ پچھلی باتیں ذہن سے اتر جاتی ہیں اس لئے میں