خطبات محمود (جلد 17) — Page 11
خطبات محمود 11 سال ۱۹۳۶ء اور ہم ان باتوں سے سخت بیزار ہیں اور ہم پر یہ الزامات لگانے والوں کو خواہ وہ چھوٹے افسر ہوں خواہ بڑے خدا کے سامنے بھی اور انسانیت کے سامنے بھی جواب دینا پڑے گا۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے اس حکومت کے سامنے اگر ہمارے پروٹسٹ کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو خدا کی طرف سے ضرور ان کی گرفت ہو گی۔زمین پر بھی اور آسمان پر بھی ان کیلئے سزا مقدر ہے جو ضرور مل کر رہے گی۔ہاں اگر شرفاء کی طرح وہ غلطی کا اعتراف کر لیں تو اور بات ہے۔ان باتوں سے حکومت انکار کرتی ہے مگر یہ بالکل صحیح ہیں۔ہمیں بعض ذمہ دار افسروں نے بتایا ہے کہ اس قسم کے سرکلر آئے ہیں۔یہ ہم مان سکتے ہیں کہ انکار کرنے والے واقعات سے ناواقف ہیں مگر یہ صحیح نہیں کہ وہ واقعات ہوئے ہی نہیں۔اگر بعض افسرا نکار کرتے ہیں تو ہم ان کو سچا مان لیتے ہیں مگر یہی کہیں گے کہ ان کو واقعات کا علم نہیں لیکن یہ کہ ایسا ہو ا ہی نہیں ہم کبھی بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔پس جب تک ان الزامات کی تردید نہیں ہوتی ایسے لوگوں سے ہماری صلح سو سال تک بھی نہیں ہو سکتی۔ایک مذہبی جماعت کس طرح اخلاقی اور مذہبی حملہ کی برداشت کر سکتی ہے۔اگر حکومت نے ہماری زمینیں چھین لی ہوتیں یا کوئی اور ذاتی نقصان پہنچایا ہوتا تو ہم خاموش رہ سکتے تھے لیکن ان باتوں کی موجودگی میں ہر گز چپ نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ جماعت کے اخلاق اور اس کی دیانت پر حملے ہیں۔اسی طرح مسٹر کھوسلہ سے نے جو فیصلہ لکھا ہے اس کے متعلق ہائی کورٹ کے حج نے یہ لکھا ہے کہ اس میں بعض باتیں ایسی ہیں کہ جن پر میں اس وجہ سے بحث نہیں کرسکتا کہ حکومت نے ملزم کی سزا میں اضافہ کیلئے اپیل نہیں کی۔گویا ان کا ازالہ اس وجہ سے نہیں ہو سکا کہ حکومت نے اس میں رُکاوٹ پیدا کر دی اس لئے اس کی ذمہ وار حکومت ہے اور اسی کا فرض ہے کہ اس کا ازالہ کرے۔اسے چاہئے کہ یا تو ایک آزاد کمیشن بٹھا کر ان کا فیصلہ کرائے اور یا پھر ہم خود ان کا ازالہ کریں گے۔اور اس صورت میں اگر حکومت کی یا اس کے حج کی سبکی ہو تو اس کی ذمہ داری بھی اسی پر ہوگی۔ہائی کورٹ کے جج نے تسلیم کیا ہے کہ چونکہ سزا میں اضافہ کا سوال نہیں اس لئے وہ بعض امور پر بحث نہیں کر سکتے گویا موجودہ صورت میں ہم پر جو بعض اعتراضات قائم کی ہیں وہ حکومت کے رویہ کی وجہ سے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کی تردید کریں۔اور جیسا کہ ہمارا طریق ہے ہم اس کے متعلق لٹریچر شائع کریں گے اور اس سے اگر حکومت کی سبکی ہو یا اسے بُرا