خطبات محمود (جلد 17) — Page 104
خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۶ء نہیں ہم اپنے شغل سے باز آئے۔پس دعا ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی کامل یقین اور پختہ ارادہ کے ساتھ اس سے کام لیتا ہے تو اس کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ آپ لوگوں میں سے بعض امراء ہیں وہ مالی لحاظ سے تحریک جدید میں زیادہ حصہ لیں گے، بعض اہل علم ہیں وہ تبلیغی لحاظ سے تحریک جدید میں زیادہ حصہ لیں گے ، بعض اہل حرفہ ہیں وہ مثلاً غیر ممالک میں نکل جانے کے لحاظ سے تحریک جدید میں زیادہ حصہ لیں گے ، بعض بچوں والے ہیں وہ تحریک جدید کے بورڈنگ والی تحریک میں زیادہ حصہ لیں گے مگر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو نہ اپنے پاس مال رکھتے ہوں گے ، نہ دولت ، نہ علم نہ حرفہ، نہ فن۔وہ دل میں کڑھتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے ہمارا اس ثواب میں کیا حصہ ہے اور خدا تعالیٰ کی اس کی آواز پر لبیک کہنے والوں میں ہم کیونکر شامل ہوں؟ میں نے بتایا تھا کہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کا بھی اس تحریک میں حصہ رکھا ہے جو دوسروں سے کسی طرح کم نہیں۔اور وہ یہ ہے کہ وہ دُعا کریں کہ اس جنگ میں جو آج ہمیں دوسروں سے درپیش ہے خدا تعالیٰ ہمیں فتح دے اور مقابلہ کرنے والے دشمنوں کو ذلیل اور رسوا کرے۔اس عمل کے نتیجہ میں وہ ان لوگوں کے پیچھے نہیں رہتے جو مال رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کر رہے ہیں ، جو طاقت رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں طاقت خرچ کر رہے ہیں، جوفن رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی فنی خدمات پیش کر رہے ہیں اور گودنیا کی نگاہوں میں یہ دعائیں بیچ نظر آتی ہوں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محض زبانی دعائیں بیچ ہی ہوتی ہیں لیکن پگھلے ہوئے دل کی دعا بیچ نہیں ہوتی بلکہ وہ بہت بڑی قیمت رکھتی ہے۔دعا کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔وہ اس قسم کا سوال ہے جس کے متعلق کسی شاعر نے کہا ہے جو منگے سو مر رہے مرے سو و منگن جا یعنی سوال کرنا موت ہے اور مانگنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے آقا کے دروازہ پر مر جائے تب اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔پس وہ دعا جو خدا تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہے، وہ دعا جو اس کی رحمت کو کھینچ لاتی ہے وہ مضطر والی دعا ہے، وہ دعا ہے جو دل کا خون کر دیتی ہے اگر وہ دل کا خون کسی شیشی میں گرایا جا سکے یا کسی کٹوری میں جمع کیا جا سکے تو بتاؤ وہ لوگ زیادہ قابل قدر سمجھے