خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 103

خطبات محمود ١٠٣ سال ۱۹۳۶ء یہ امر بتاتا ہے کہ وہ صاحب کشف تھے اور خدا تعالیٰ نے انہیں بتا دیا تھا کہ یہ شخص مسیح موعود بننے والا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے فوت ہو گئے مگر وہ اپنی اولا د کو وصیت کر گئے کہ حضرت مرزا صاحب دعویٰ کریں گے انہیں ماننے میں دیر نہ کرنا۔اسی تعلق کی بناء پر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی شادی ان کے ہاں ہوئی۔غرض عالم توجہ ایک دنیوی چیز ہے زیادہ سے زیادہ لوگ یہ کر لیتے ہیں کہ توجہ سے کسی کے دل میں وہم پیدا کر لیتے ہیں، کسی کو بیہوش کر دیا، بعض ماضی کے اخبارات دریافت کر لئے ، بعض حال کے واقعات معلوم کر لئے ، معمول کو بے حس اور بے طاقت کر دیا۔غرض اس قسم کے افعال عالم توجہ سے ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں مگر دعا کے مقابل اس کی کیا حقیت ہے۔علم توجہ کے اثرات انفرادی ہوتے ہیں مگر دعا کے اثرات انفرادی ہی نہیں بلکہ مجموعی بھی ہوتے ہیں۔پھر تم نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ علم توجہ سے کوئی شخص حکومتوں کا تختہ الٹ دے، مذاہب باطلہ کو دنیا سے نیست و نابود کر دے مگر دعا کے مقابلہ میں دنیا کی ساری بادشاہتیں مل کر بھی بیچ اور ذلیل ہو جاتی ہیں اور جب خدا تعالیٰ کا ایک مسکین اور عاجز بندہ اپنی مسکنت کی چادر اوڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! تُو میرا خالق اور میں تیرا بندہ ہوں تیرا حق ہے کہ تو مجھ سے جو چاہے کرے لیکن تیرے بندے مجھ پر کیوں ظلم کرتے ہیں؟ تب خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکتی اور بڑے بڑے جابر اور ظالم بادشاہوں کا اس طرح تختہ الٹ دیتی ہے کہ ان کا نام ونشان تک مٹ جاتا ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ ان کے محلہ میں شاہی دربار کے بعض آدمی رات کو گانا بجانے کا شغل رکھتے۔انہوں نے کئی دفعہ سمجھایا کہ لوگوں کی نیند یں اور نماز میں خراب ہوتی ہیں تم اس شغل کو ترک کر دو مگر وہ نہ مانے۔جب انہوں نے بار بار کہا تو اس خیال کے ماتحت کہ کہیں یہ محلہ والوں سے مل کر ہمیں روکنے کا تہیہ نہ کر لیں انہوں نے شاہی پہرہ داروں کا انتظام کر لیا۔جب اس بزرگ کو اطلاع ملی تو انہوں نے کہا اچھا! اُنہوں نے اپنی حفاظت کیلئے فوج بلالی ہے تو ہم بھی رات کے تیروں سے ان کا مقابلہ کریں گے۔معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کے دلوں میں ابھی کچھ نیکی باقی تھی جو نہی ان کے کان میں یہ آواز پڑی کہ ہم رات کے تیروں سے مقابلہ کریں گے، وہ دوڑتے ہوئے اُس بزرگ کے پاس آئے اور کہنے لگے ان تیروں کے مقابلہ کی ہم میں طاقت