خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 85

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۶ سال ۱۹۳۶ء ہے فلاں چیز کو پکڑو اور اُنگلیاں جھٹ اُسے پکڑ لیتی ہیں۔ لیکن اگر دماغ کہے اور اُنگلیاں نہ پکڑیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ ہاتھ مفلوج اور اُنگلیاں رعشہ زدہ ہیں کیونکہ رعشہ کے مریض کی یہ حالت ہوا کرتی ہے کہ وہ چاہتا ہے ایک چیز کو پکڑے مگر اس کی اُنگلیاں اسے نہیں پکڑ سکتیں ۔ پس خلیفہ ایک حکم دیتا ہے مگر لوگ اُس کی تعمیل نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ رعشہ زدہ وجود ہیں۔ لیکن کیا رعشہ والے وجود بھی دنیا میں کوئی کام کیا کرتے ہیں؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ سال کا تجربہ مجھے یہی بتاتا ہے کہ ہماری جماعت کا وجود رعشہ والا وجود ہے، دماغ نے حکم دیا مگر ہاتھوں اور اُنگلیوں نے کوئی کام نہ کیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ جماعت نے تحریک جدید میں روپیہ دیا مگر میں نے بتایا تھا کہ اس میں سب سے کم قیمت روپیہ کی ہوگی۔ روپیہ کی قیمت تو رسم و رواج کی وجہ سے ہے۔ آج یورپ کے اثر ، اس کے غلبہ اور فوقیت کی وجہ سے ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے ورنہ روپوں پر تو ہم تھوکتے بھی نہیں اور نہ صرف روپوں سے دنیا میں انبیاء کی جماعتیں کبھی کامیاب ہوا کرتی ہیں۔ صحابہ کے زمانہ میں کب روپے تھے مگر انہوں نے کام کر کے دکھایا اور وہ کامیاب ہو گئے ۔ اسی طرح ہمیں بھی روپوں کی ضرورت نہیں کام کرنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے مگر چونکہ گھر کی اشاعت میں روپیہ کا بہت بڑا دخل ہے اس لئے جوابی رنگ میں ہمیں بھی روپیہ لینا اور خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا آگ سے عذاب دینا منع ہے ۔ اس حدیث کی رو سے توپوں اور بموں سے لوگوں کو ہلاک کرنا نا جائز ہے مگر چونکہ یورپ والے لڑائیوں میں توپ اور بم استعمال کرتے ہیں اس لئے مجبوراً اسلامی حکومتوں کو بھی یہ ہتھیار استعمال کرنے پڑتے ہیں ورنہ ہمارے رسول کریم ﷺ کا یہی حکم ہے کہ ہم اس قسم کے ہتھیار دُنیا سے مٹا دیں لیکن چونکہ یورپ والے تو ہیں چلاتے ہیں اس لئے جواباً توپوں کا استعمال جائز ہے ورنہ جب اسلامی حکومتوں کا دنیا میں غلبہ ہوگا اُس وقت ان کا پہلا فرض یہ ہوگا کہ وہ توپ اور ہم کو اُڑا دیں اور اسے دنیا سے مٹانے کی کوشش کریں ۔ الله۔ ہمارے محمد ﷺ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جسے آج بعض کم بخت تعلیم یافتہ کہلانے والے مسلمان بھی جہالت کا زمانہ کہتے ہیں یہ رحم اور محبت کی تعلیم دی کہ آگ کا عذاب دینا منع ہے۔ کتنی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺ نے دی ۔ آج آگ کا عذاب تم دنیا سے مٹا دو تمام