خطبات محمود (جلد 17) — Page 752
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۴۳ سال ۱۹۳۶ء ہو۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سال میں کم از کم ایک دن تم خدا تعالیٰ کے سامنے صرف اپنے گناہوں پر روڈ اور خوشی کی چیز اس سے کوئی نہ مانگو۔ اس سے روپیہ نہ مانگو ، اس سے پیسہ نہ مانگو، اس سے دولت نہ مانگو ، اُس سے صحت نہ مانگو ، اس سے قرضوں کا دور ہونا نہ مانگو، اُس سے اعزاز نہ مانگو، اس سے اکرام نہ مانگو، صرف یہی مانگو کہ خدایا! تیرا عفو تام ہمیں حاصل ہو اور توبہ نصوح ہمارے لئے میسر ہو جائے ۔ اس دعا کو مختلف رنگوں میں مانگو، مختلف طریقوں سے مانگو، مختلف الفاظ میں مانگو، اپنے لئے مانگو، اپنی بیویوں کیلئے مانگو، اپنے بچوں کیلئے مانگو، اپنے دوستوں کیلئے مانگو، اپنے ہمسایوں کیلئے مانگو، اپنے شہر والوں کیلئے مانگو اور پھر ساری جماعت کیلئے مانگو مگر چیز ایک ہو، بات ایک ہو، رنگ ایک ہو۔ سُر ایک ہو، تال ایک ہو اور جو کہو اُس کا خلاصہ یہ ہو کہ ہم تیرا عفو تجھ اب سے سے ہی چاہتے ہیں ۔ پس اس عفو سے مانگو ، اس غفار سے مانگو ، اس ستار سے مانگو ، اس تو اب و، مانگو۔ اور اگر تم اس سے رحمانیت مانگو تو اس لئے کہ وہ تمہیں اپنا عفو تام اور توبہ نصوح دے اور اگر رحیمیت مانگو تو بھی اسی لئے کہ وہ تمہیں اپنا عقو تام اور توبہ نصوح دے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ سابقہ امتوں میں سے ایک امت کے تین آدمی ایک دفعہ ایک طوفان میں پھنس گئے اور وہ اس طوفان سے پناہ لینے کیلئے ایک پہاڑ کی غار میں چھپ گئے ۔ اتفاقاً زور کی جو آندھی آئی تو پتھر کی ایک بڑی بھاری سیل لڑھک کر اس غار کے منہ کے آگے آگئی اور نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔ وہ ایک چھوٹی مصیبت سے بچنے کیلئے پہاڑ کی غار میں گئے تھے مگر اُس سے بڑی مصیبت میں پھنس گئے ۔ اُس جنگل میں جبکہ وہ ایک پہاڑ کی غار میں محبوس تھے کوئی آدمی ایسا نہ تھا جو انہیں اس مصیبت سے نجات دلاتا ۔ تب وہ سخت گھبرائے اور جب انہیں نجات کی کوئی صورت دکھائی نہ دی تو ایک شخص کو دعا کی تحریک ہوئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا آؤ ہم نے اپنی عمر میں جو سب سے زیادہ نیکی کا کام کیا ہے اُس کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے کہیں کہ وہ اس پتھر کو ہٹا دے۔ تب اُن میں سے ایک نے کہا اے خدا ! تو جانتا ہے مجھے ایک لڑکی سے جو میری رشتہ دار تھی بڑی محبت تھی اور وہ کسی طرح میرے قابو نہ آتی تھی میں اُس سے بدکاری کرنا چاہتا تھا مگر وہ نہ مانتی ۔ آخر میں نے ایسی تدابیر اختیار کیں کہ وہ اس بات پر مجبور ہوگئی کہ میرے ساتھ بدفعلی کرے۔ جب میں اُس پر قادر ہو گیا اور سالہا سال کی کوششوں اور بہت سا روپیہ خرچ کرنے کے