خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 752 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 752

خطبات محمود ۷۵۲ سال ۱۹۳۶ میں نے گزشتہ سال اپنے کسی خطبہ میں بیان کیا تھا کہ جو شخص اس لئے انتظار کرتا ہے کہ دوسرے دوست بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائیں اُس کی سبقت میں کوئی فرق نہیں آسکتا کیونکہ انہوں نے جس دن چندہ کی ادائیگی کی نیت کر لی خدا تعالیٰ کے حضور ان کا نام سابق لوگوں میں لکھا گیا خواہ ہمارے پاس وہ مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد پہنچے۔سابق قرار دینا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے میرا نہیں۔بالکل ممکن ہے ایک شخص میرے پاس آئے اور سو روپیہ چندہ دے اور میں اس کی بڑی قدر کروں اور ایک دوسرا شخص آئے جو پانچ روپے دے اور میں یہ اندازہ نہ کرسکوں کہ اس نے کتنی بڑی قربانی کے بعد پانچ روپے دیئے ہیں اور خدا کے نزدیک اس کی قربانی زیادہ قرار پا جائے ایسی صورت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک اول نمبر پر پانچ روپے چندہ دینے والا ہی لکھا جائے گا نہ کہ سو روپیہ چندہ دینے والا۔اسی طرح ایک شخص جلدی سے خط بھیج دیتا ہے مگر دوسرا شخص انتظار کرتا ہے تا اس کے باقی بھائی بھی اس میں شامل ہو جائیں تو اگر وہ اس احتیاط کی وجہ سے دیر لگاتا ہے کہ وہ عمدگی سے کام کرے اور اس کی ارسال کردہ فہرست ہر لحاظ سے مکمل ہو تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہی سابق ہے۔میرا اس احتیاط کی تاکید سے یہ مطلب نہیں کہ جو جلد وعدے بھجوا سکتے ہوں وہ بھی جلدی نہ کریں یقیناً جو جماعتیں مکمل اور جلدی وعدے بھجوا سکیں انہیں ایسا کرنا چاہئے کیونکہ وہ شوکت اسلام کے ظاہر کرنے میں ممد ہوتی ہیں۔اگر خلیفہ کے اعلان کے معا بعد کثیر تعداد میں وعدے وصول ہونے لگیں تو دوسرے لوگوں پر یقینا اس کا ثر پڑتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دیکھو یہ جماعت کس طرح اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتی ہے۔میری نصیحت صرف ان جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے جو صرف جلدی کو مد نظر رکھتی ہے تکمیل کو نہیں۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس سال کے وعدے قلیل زمانہ میں پہلے سالوں سے زیادہ موصول ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال پہلے مہینے میں پچاس ہزار کے وعدے موصول ہوئے تھے لیکن اس دفعہ پندرہ دن میں اتنی ہزار کے قریب کے وعدے وصول ہوئے ہیں جس کی دو وجہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ پہلے دو سال کام کرنے سے یہ کام زیادہ منظم ہو چکا ہے اور جماعتیں جلد وعدوں کی فہرست کو پورا کر لیتی ہیں اور دوسری یہ کہ جنہوں نے گزشتہ سالوں میں قربانیاں کی تھیں ان کے اخلاص کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زیادہ سہولت سے اور جلدی