خطبات محمود (جلد 17) — Page 74
خطبات محمود ۷۴ سال ۱۹۳۶ء حوالے کر دیا ہے تلوار لینا ہماری ذلت ہے۔مگر چونکہ اُس وقت انگریزوں میں بہت جوش تھا اور انہیں نپولین کے خلاف سخت غصہ تھا اس لئے بہادری کے خیالات ان کے دلوں میں دبے ہوئے تھے انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا نپولین سے تلوار ضرور لی جائے گی۔پھر انہوں نے اُس لارڈ کے ساتھ ایک ایسے شخص کو کر دیا جو ایسے اعلیٰ اخلاق کا مالک نہیں تھا جن اعلیٰ اخلاق کا وہ لارڈ مالک تھا اور کہا کہ نپولین سے ضرور تلوار لی جائے۔جب وہ نپولین کے پاس پہنچے تو وہ لارڈ نہایت رقت کے ساتھ نپولین سے کہنے لگا میری زبان نہیں چلتی اور مجھے شرم آتی ہے کہ میں آپ کو وہ پیغام پہنچاؤں مگر چونکہ مجھے حکم ہے اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی تلوار ہمارے حوالے کر دیں۔نپولین نے یہ سن کر کہا کیا انگریز قوم جس کو میں اتنا بہادر سمجھتا تھا اپنے مفتوح دشمن سے اتنی معمولی رعایت بھی نہیں کر سکتی۔یہ سن کر اُس لارڈ کی چیخ نکل گئی اور وہ پیچھے ہٹ گیا مگر اس کے نائب نے آگے بڑھ کر اُس کی تلوار لے لی۔تو بہادری اور جرات کے واقعات غیر کے دل پر بھی اثر کر جاتے ہیں۔اگر ہمارے کارکن بھی وہ اطاعت، قربانی اور ایثار پیدا کریں جن کا حقیقی جرأت تقاضا کرتی ہے تو دیکھنے والوں کے دل پر جماعت احمدیہ کا بہت بڑا رعب پڑے گا اور ہر شخص یہی سمجھے کہ یہ جماعت دنیا کو کھا جائے گی۔اور اگر یہ نہ ہو بلکہ میں خطبے کہتا چلا جاؤں لوگ کچھ اور ہی کرتے جائیں، مبلغین کسی اور راستے پر چلتے رہیں ، ناظر اپنے خیالوں اور اپنی تجویزوں کو عملی جامہ پہنانے کی فکر میں رہیں، اسی طرح کا رکن ، سیکرٹری، پریذیڈنٹ ، اُستاد، ہیڈ ماسٹر سب اپنے اپنے راگ الاپتے رہیں اور بندھے ہوئے جانور کی طرح اپنے کیلے کے گر د بار بار پھرتے رہیں تو بتاؤ کیا اس طرح ترقی ہو سکتی ہے؟ خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام زبیر میں ناکام ہیں۔میں آج تک جس قدر خطبات دے چکا ہوں اُنہیں نکال کر ناظر دیکھ لیں کہ