خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 737 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 737

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۲۸ سال ۱۹۳۶ء رسول کریم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو مکہ کے لوگ آپ کے پاس آئے جن کی نگاہیں بوجہ ایمان سے پوری طرح روشناس نہ ہونے کے ابھی دنیا ہی کی طرف تھیں اس کے بعد کی ایک صلى الله جنگ میں کچھ اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے تھے آنحضرت ﷺ نے وہ اموال ان لوگوں میں تقسیم صلى الله صلى کر دیئے ۔ ایک انصاری نوجوان نے کسی مجلس میں کہا کہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور رسول کریم ﷺ نے نے امر اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے۔ آپ کو اس کا علم ہوا تو ا کا برانصار کو بُلایا اور دریافت کیا کہ مجھے ایسی بات پہنچی ہے۔ انصار رو پڑے اور کہا کہ کسی نادان نے کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں اے انصار ! تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے محمد (ﷺ) کو اُس وقت جگہ دی جب اسے کوئی جگہ نہ دیتا تھا اور اس کے شہر والوں نے اسے نکال دیا تھا پھر اس کیلئے عزت اور فتح مندی حاصل کی تو اس نے اموال اپنے رشتہ داروں کو بانٹ دیئے۔ اس پر انصار کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے پھر کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم ایسا نہیں کہتے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم اسی بات کو ایک اور طرح بھی کہہ سکتے ہو اور وہ اس طرح کہ جس شخص کو خدا نے تمام دنیا کی ہدایت کیلئے مبعوث کیا وہ مکہ کی چیز تھی مگر خدا اُسے مدینہ میں لے گیا اور پھر خدا نے اپنے زور اور طاقت سے مکہ کو اُس کیلئے فتح کیا۔ اُس وقت مکہ والوں کا خیال تھا کہ ان کی چیز انہیں مل جائے گی مگر مکہ والے بھیڑ اور بکریوں کو لے گئے اور مدینہ والے خدا کے رسول کو لے کر اپنے شہر کی طرف چلے گئے ۔ پھر آپ را شہری ۔ نے فرمایا بے شک یہ بات ایک نادان کے منہ سے نکلی ہے مگر اس کی وجہ سے اب تمہیں اس دنیا کی حکومت نہیں مل سکتی ۔ اب تمہاری خدمات کا بدلہ تمہیں حوض کوثر پر ہی ملے گا ہے۔ دیکھ لو تیرہ صدیاں گزر چکی ہیں اور چودھویں صدی گزر رہی ہے اس عرصہ میں ہر قوم ہی اسلام کی بدولت بادشاہ بنی ہے مگر کوئی انصاری بادشاہ نہیں ہو سکا۔ سو بعض اوقات ایک شخص کا قول ساری قوم کیلئے نقصان کا موجب ہو سکتا ہے ۔ پس وہ جو قربانی اس لئے کرتے ہیں کہ کوئی عہدہ ملے یا دولت ملے وہ ہرگز میری آواز پر لبیک نہ کہیں ۔ ایسے لوگ میرے مخاطب نہیں ہیں میرے مخاطب وہ ہیں جو میرے لئے نہیں بلکہ خدا کیلئے قربانی کرتے ہیں ۔ جو میرے لئے قربانی کرتا ہے وہ ہرگز ایسا نہ کرے کیونکہ میں تو خود کمزور اور بیمار ہوں کسی کا احسان نہیں اُٹھا سکتا میرے ناتواں کندھے اس بوجھ کی برداشت نہیں کر سکتے ۔