خطبات محمود (جلد 17) — Page 734
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۲۵ سال ۱۹۳۶ء تمہاری مرضی پر موقوف ہوں تا جو لوگ اپنی مرضی سے قربانیاں کریں خدا تعالیٰ ان کے ہاتھ ، پاؤں، کان، آنکھیں اور زبان بن جائے۔ چنانچہ اس شوری پر صدرانجمن کی مالی مشکلات دور کرنے کیلئے بھی میں نے اسی طرح نفلی چندے اور قرضے ہی مقرر کئے ہیں ۔ اب تمہارا اختیار ہے کہ ان جانی و مالی قربانیوں کو اختیار کر کے قرب الہی حاصل کرو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے ظہور اور بروز بن جاؤ۔ مگر میں اس موقع پر ایک اور بات سے بھی ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں بعض لوگ نادانی سے قربانی کے بعد اس امید میں رہتے ہیں کہ اِدھر وہ قربانی کریں اور اُدھر اُن کو دولت مل جانی چاہئے ۔ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ دولت وہ ہے جو خدا تعالیٰ دے نہ کہ جو وہ خود تجویز کریں۔ ایسے لوگوں کے حال پر مجھے ہمیشہ ایک لطیفہ یاد آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی میراثی اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ سودا کرنے کا شائق تھا جب کبھی کوئی اُسے نماز کیلئے کہتا وہ یہی جواب دیتا کہ کیا ملے گا ؟ ایک دفعہ ایک مولوی نے اُسے وعظ کیا کہ نماز پڑھا کرو۔ تو اُس نے یہی سوال کر دیا کہ کیا ملے گا ؟ مولوی صاحب نے اُسے روحانیت کی طرف مائل کرنے کیلئے کہا کہ نور ملے گا۔ اس پر وہ نماز کیلئے تیار ہو گیا مولوی صاحب نے اُسے موٹے موٹے مسائل سمجھا دیئے اور تیمم کا مسئلہ بھی بتا دیا ۔ فجر کی نماز کے وقت اُس نے بیوی سے کہا کہ اُٹھا تو جاتا نہیں تیمم کر کے بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ لیتا ہوں نماز پڑھ کر کچھ دیر کیلئے وہ سو گیا جب صبح اُٹھا تو اسی قسم کے جلد بازوں کی طرح فوری انعام کا امیدوار ہوا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ بیوی ذرا اُٹھ کر دیکھو تو میرے چہرے پر کوئی نور ہے یا نہیں؟ بیوی نے دیکھا تو کہنے لگی کہ کچھ ہے تو سہی۔ اُس نے پوچھا کہ نور کیسا ہوتا ہے؟ اُس نے کہا کہ کچھ کالا کالا معلوم ہوتا ہے۔ بات یہ تھی کہ اُس نے اندھیرے میں تیمم کرنے کیلئے توے پر ہی ہاتھ مار دیا تھا اور اُس کی سیاہی چہرے پر لگی ہوئی تھی جب اس نے بیوی کا جواب سنا تو اپنے ہاتھ دیکھے اور انہیں بالکل سیاہ پایا کیونکہ توے کی سیاہی پہلے انہی کو لگی تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ بیوی سے کہنے لگا اگر نور کالا ہوتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پھر وہ گھٹا باندھ کر آیا ہے۔ تو ایسے نادان لوگ ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں اور دنیوی نعمتوں کا نام فضل رکھتے ہیں حالانکہ اصل نعمت وہ ہے جو موت کے بعد ملتی ہے۔