خطبات محمود (جلد 17) — Page 724
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۱۵ سال ۱۹۳۶ء پُر ہو جائیں گے اور منافقوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ جائے گی ۔ ابھی بہت سا کام ہم نے کرنا ہے اور یہ تو ابھی پہلا ہی قدم ہے اگر اس قدم کے اُٹھانے میں جماعت نے کمزوری دکھائی تو خدا کے کام تو پھر بھی نہیں رکیں گے لیکن دشمن کو مسیح موعود پر طعن کرنے کا موقع مل جائے گا اور ہر وہ گالی اور ہر وہ دشنام اور ہر وہ طعنہ جو مسیح موعود کو یا ان کے سلسلہ کو دیا جائے گا اُس کی ذمہ داری انہی لوگوں پر ہوگی جو اپنے عمل کی کمزوری سے دشمن کو یہ موقع مہیا کر کے دیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دی تو آئندہ ہفتوں میں میں اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی پھر ایک دفعہ تفصیلی طور پر ان امور کی طرف توجہ دلاؤں گا سر دست میں نے اجمالاً سب امور کی طرف توجہ دلا دی ہے اور مالی حصہ تحریک کو میں آج ہی خطبہ کے ساتھ شروع کر دیتا ہوں کیونکہ اس تحریک کیلئے دوستوں کو ہفتوں محنت کرنی پڑتی ہے اور بڑی مہلت درکار ہوتی ہے۔ پس اگر اس میں تعویق کی گئی تو احباب کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی ۔ پس میں آج ہی اس امر کا اعلان کرتا ہوں کہ یکم دسمبر سے تحریک جدید کے مالی حصے کی قسط سوم کا زمانہ شروع ہو جائے گا اور میں دوستوں سے امید رکھتا ہوں کہ جہاں تک ان سے ہو سکے وہ پہلے سالوں سے بڑھ کر اس میں حصہ لینے کی کوشش کریں کیونکہ مؤمن کا قدم پیچھے نہیں پڑتا بلکہ اسے جتنی قربانی پیش کرنی پڑتی ہے اتنا ہی وہ اخلاص میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ ہر وہ شخص جس نے ایک سال یا دو سال اس قربانی کی توفیق پائی لیکن آج اُس کے دل میں انقباض پیدا ہو رہا ہے یا وہ اس بشاشت کو محسوس نہیں کرتا جو گزشتہ یا گزشتہ سے پیوستہ سال میں اس نے محسوس کی تھی اسے میرے سامنے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، اپنے دوستوں کے سامنے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے سامنے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، اسے چاہئے کہ خلوت کے کسی گوشہ میں اپنے خدا کے سامنے اپنے ماتھے کو زمین پر رکھ دے اور جس قدر خلوص بھی اُس کے دل میں باقی رہ گیا ہو اُس کی مدد سے گریہ وزاری کرے یا کم از کم گریہ و زاری کی شکل بنائے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں جھک کر کہے کہ اے میرے خدا! لوگوں نے بیج بوئے اور ان کے پھل تیار ہونے لگے وہ خوش ہیں کہ ان کے اور ان کی نسلوں کے فائدے کیلئے روحانی باغ تیار ہو ہو رہے ہیں پر اے میرے رب ! میں دیکھتا ہوں جو بیچ میں نے لگایا تھا اس میں سے تو روئیدگی بھی پیدا نہیں ہوئی نہ معلوم میرے کبر کا کوئی پرندہ کھا گیا ، یا میری وحشت کا کوئی درندہ اسے پاؤں کے نیچے مسل گیا ، یا