خطبات محمود (جلد 17) — Page 723
خطبات محمود ۷۲۳ سال ۱۹۳۶ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جسے توفیق ہو وہ کم سے کم ایک دفعہ حج ضرور کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اسی طرح غالبا ز کوۃ کے متعلق بھی اُس نے پوچھا اور ساتھ ساتھ قسم بھی دیتا جاتا تھا آخر سب کچھ سن کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم ! یہ میں ضرور کروں گا مگر اس سے زیادہ نہیں۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنی قسم کو پورا کیا تو جنت میں جائے گا سے۔تو وہ مؤمن تو تھا مگر بیوقوف مؤمن تھا۔ابو بکر نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا، عمرؓ نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا ، اسی طرح عثمان علی ، طلحہ اور زبیر نے کبھی ایسے سوالات نہیں کئے ، اکابرانصار نے کبھی ایسے سوال نہیں کئے ، ان کی تو یہ حالت تھی غریب صحابہ کا ایک گروہ آنحضرت میہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! آپ جو حکم دیتے ہیں وہ اُمراء بھی بجالاتے ہیں اور ہم بھی ، نماز میں وہ بھی پڑھتے ہیں اور ہم بھی ، روزے وہ بھی رکھتے ہیں اور ہم بھی ، حج بھی دونوں کرتے ہیں مگر وہ زکوۃ دیتے ہیں اور ہمارے پاس روپیہ نہیں اس لئے یہ ہم سے درجہ میں بڑھ جاتے ہیں کوئی ایسی تدبیر بتائیے کہ یہ ہم سے نیکی میں نہ بڑھ سکیں۔آپ نے فرمایا کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ ۳۳ دفعہ الْحَمْدُ لِلهِ اور ۳۴ دفعہ اللهُ اَكْبَرُ پڑھ لیا کرو اللہ تعالیٰ دوسروں سے پہلے تمہیں جنت میں۔جائے گا۔یہ سن کر سب غرباء نے یہ پڑھنا شروع کر دیا۔یہ نہیں کہا کہ ہم صرف فرائض ہی او کریں گے لیکن اس زمانہ کے امراء بھی نیکیوں میں ترقی کرنے کیلئے ہمیشہ ٹوہ میں رہتے تھے ان کو جب علم ہوا تو انہوں نے بھی یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔اس پر غرباء آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! ان کو رو کئے یہ بھی وہ وظیفہ پڑھنے لگے ہیں۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص خدا کی خوشنودی کیلئے کوئی کام کرتا ہے میں اسے کیسے روک سکتا ہ ہوں۔پس یہ حقیقی اور عقلمند مؤمن تھے وہ شخص بھی مؤمن تھا اور بخشا ہوا مؤمن تھا جو آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا مگر بیوقوف مؤمن تھا اس نے سمجھا کہ مجھے چھوٹی سے چھوٹی رحمت بھی مل جائے تو کافی ہے مگر عقلمند مؤمن کہتا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ کیوں نہ لوں۔پس نوافل اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں یعنی وہ عبادت جو انسان کی مرضی پر چھوڑ دی گئی ہو۔نوافل ادا کرتے کرتے انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ