خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 702

خطبات محمود ۷۰۲ سال ۱۹۳۶ میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معنے درست ہیں مگر خاشع کے صرف یہی معنے نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی کئی معنی ہیں، اسی طرح صلوۃ سے مراد خالی دعا نہیں کیونکہ وہ تو تکلیف کے وقت ہوتی ہے۔یہاں خصوصیت سے نماز کا ذکر ہے کہ وہ نماز میں خشوع کرتے ہیں۔درحقیقت عربوں میں صلوٰۃ کا لفظ عام ہے جو صرف عبادت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے خواہ وہ اس شکل میں ہو جیسے مسلمانوں میں عبادت کا رواج ہے یا کسی اور شکل میں ہو جیسے عیسائیوں یا یہودیوں کی نماز ہے۔قرآن کریم میں صلوۃ سے مراد بالعموم عبادت ہی ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے کہ کفار کی صلوۃ صرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا ہے۔اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نماز میں سجدہ کے وقت یا دوسرے موقع پر تالیاں پیٹتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عبادت اسی قسم کی ہے جس میں کوئی معقول بات نہیں جیسے ہندوؤں کی عبادت چھینے بجانے سے ہوتی ہے اسی طرح مکہ والے بھی کرتے تھ تھے اور اسی کا نام عبادت رکھ لیتے تھے۔گویا اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ مسلمانوں کی نماز کے وقت بھی تالیاں بجاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ ایک نیک کام کر رہے ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مشرکوں کی عبادت ایسی ہوتی ہے جیسے تالیاں بجانا۔اسی طرح خشوع کسی چیز کے نیچے ہونے کو کہتے ہیں اسی وجہ سے غض بصر کیلئے بھی اس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔پس خشوع کے معنے ہوئے نیچے ہو جانا ، تذلل اختیار کرنا اور نفس کو مٹا دینا۔بَلْدَةً خَاشِعَہ ایسے شہر کو کہتے ہیں جس کے سب مکانات گر گئے ہوں اور غبار سے اٹے ہوئے ہوں۔پس نماز میں خشوع کے یہ معنے ہوئے کہ نماز پڑھنے والا اپنے آپ کو کلی طور پر مٹادے اور انکسار اختیار کرے۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ نماز میں انکسار سے کیا مراد ہے سواگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے اندر ہی انکسار کا مفہوم رکھا ہوا ہے۔انسان تکبیر کے بعد کھڑا ہو جاتا ہے اور سینے پر ہاتھ باندھ لیتا ہے چونکہ انسان میں یہ ایک کمزوری پائی جاتی ہے کہ جب وہ کوئی اہم کام کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب میں بہت بڑا ہو گیا ہوں جیسے آجکل کے علماء اور سجادہ نشین لوگوں کو اپنی عزت کرتے ہوئے دیکھ کرا۔آپ کو بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قیام کے معا بعد رکوع رکھ دیا اور حکم دیا کہ فروتنی اور انکسار کی وجہ سے نیچے جھک جاؤ اور ایسا رنگ دکھاؤ جیسے غلام اپنے آقا کیلئے دکھاتا ہے۔پھر جب اسے خیال آنے لگتا ہے کہ اب میں نے بڑا کام کر لیا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب