خطبات محمود (جلد 17) — Page 70
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ میں تحریک کرتا ہوں جماعت ساڑے ستائیس ہزار روپیہ دے اور وہ تھوڑے سے عرصہ میں ایک لاکھ سات ہزار روپیہ کا وعدہ کر دیتی ہے۔ پھر دوبارہ ایسی حالت میں تحریک کرتا ہوں جبکہ جماعت پر اور بوجھ بھی ہیں تو وہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کا وعدہ کر دیتی ہے لیکن جو تحریک اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے متعلق ہے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور جماعت کی پہلی حالت بدستور چلی آتی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مال کی قربانی اس قربانی کی نسبت بہت زیادہ آسان ہے اور یہ قربانی کرتے وقت لوگ ہچکچاہٹ محسوس کرتے اور خوشی سے آمادہ نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ زندگیاں وقف کرنے والے نوجوان زندگیاں وقف کرتے ہیں وہ اس دعوے کے ساتھ زندگی وقف کرتے ہیں کہ بھو کے رہیں گے، پیاسے رہیں گے، پیدل جائیں گے اور ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کیلئے خوشی سے تیار رہیں گے لیکن جب ہم اُن کی روانگی پر انہیں اپنے پاس سے کچھ خرچ دیتے ہیں تو جھٹ یہ سوال پیدا کر دیتے ہیں کہ اتنا خرچ تو کافی نہیں اور روپیہ چاہئے ۔ یہ امر صاف بتاتا ہے کہ انہیں اسراف اور اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنے کی عادت ہے۔ وہ وطن چھوڑ دیں گے ، اپنے مستقل کو قربان کر دیں گے، بیوی بچوں سے جدا ہو جائیں گے، ماں باپ سے الگ ہو جائیں گے لیکن اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنا اور اسراف ان کی راہ میں حائل ہو جائے گا اور ان عادتوں کی وجہ سے وہ مختلف قسم کے سوال پیدا کر دیں گے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں یہ نسبت اور امراض کے یہ مرض زیادہ راسخ ہے حالانکہ یہی وہ مرض ہے جس سے قوم میں غداری ، فریب اور خیانت کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور جب اس قسم کی عادت پیدا ہو جائے کہ انسان نکما بیٹھا رہے اور جو مفت میں ملے وہ لے لے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن آتا ہے اور اس سے آکر کہتا ہے مجھ سے پانچ روپے لے لو اور احمدیوں کا کوئی راز بتاؤ یا ان کی فلاں خبر ہمیں لا دو اس پر وہ پانچ روپے لے لیتا اور اپنے ایمان کو ضائع کر دیتا ہے۔ بالکل ممکن ہے اس نے دس روپے اپنی طرف سے چندہ میں دیئے ہوں لیکن چونکہ اسے نکما بیٹھے رہنے کی وجہ سے یہ عادت پڑی ہوئی ہے کہ مفت کا روپیہ لیتا اور اپنی ضروریات پر خرچ کرتا ہے اس لئے وہ پانچ روپے دیکھ کر انہیں چھوڑ نہیں سکتا ، اور وہی انسان جو احمدیت کیلئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار تھا، اپنا وطن چھوڑ نے کیلئے تیار تھا، اپنے بیوی بچوں