خطبات محمود (جلد 17) — Page 694
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۸۵ سال ۱۹۳۶ء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے الہام سے جو لذت ہم اُٹھا سکتے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خیر تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا جس طرح آسمان کے ستاروں کو کوئی شخص گن نہیں سکتا اسی طرح تیری اولاد کو بھی کوئی گن نہیں سکے گا ۔ اب آسمان کے ستاروں کی جو حقیقت بیان کی گئی ہے اس کے مطابق اس پیشگوئی کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولا د غیر محدود ترقی کرے گی اور اگر کبھی لوگ اسے گننے پر قادر ہونے لگیں گے تو جھٹ خدان خدا تعالیٰ اسے بڑھا دے گا کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کے اتعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے زمین و آسمان خدا تعالیٰ کی مٹھی میں ہیں ۔ پس جو چیز خدا تعالیٰ کی مٹھی میں ہو اُس کا انسان کہاں اندازہ لگا سکتا ہے۔ اسی لئے جب انسان کا علم اس اندازے کے قریب قریب پہنچنے لگتا ہے تو خدا تعالیٰ اس دنیا کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اس نئے علم سے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ کے کی صداقت کا سائنس نے اقرار کر لیا اور معلوم ہو گیا کہ زمین و آسمان کا اندازہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا اور جب بھی انسانوں کا اندازہ حقیقت کے قریب پہنچے گا دنیا اور زیادہ پھیل جائے گی کیونکہ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ بتاتا ہے کہ عالم کا اندازہ محض خدا تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے سوا اور کوئی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا اسی لئے انسان جب اپنے خیالی علم کے ذریعہ اپنے خیال میں ایک اندازہ تک پہنچ گیا تو معاً بعد اُسے معلوم ہوا کہ حقیقت تو اور ہی ہے اور خدا تعالیٰ نے دنیا کو اور زیادہ پھیلا دیا ہے۔ ** پس ہم جس معرفت کو حاصل کئے ہوئے ہیں اس کے مطابق منافقین کا جماعت سے علیحدہ ہونا ہرگز جماعت کیلئے نقصان دہ نہیں ہو سکتا بلکہ غیر محدود ترقی کا موجب ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ایک شخص مرتد ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُس کی جگہ اُس سے بہتر قائم مقام لائے گا ۔ پس ہمیں ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تم صداقت قائم کرنے اور کفر اور نفاق کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش کرو خواہ وہ نفاق تمہارے اندر ہو یا تمہارے بیوی بچوں اور عزیز ترین وجودوں میں ۔ تم ان سب کو اللہ تعالیٰ کیلئے قربان کر دو تا تمہیں وہ انعام حاصل ہوں جو قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں ۔ یاد رکھو جب تک تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے عزیزوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گے اُس وقت تک خدا تعالیٰ خود