خطبات محمود (جلد 17) — Page 68
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۹ سال ۱۹۳۶ء یہاں سے تھیلی پرائی جاسکتی ہے اس لئے اُس وقت تو اُس نے خیال نہ کیا مگر گھر جا کر جو چیزیں دیکھیں تو اشرفیوں کی تھیلی گم پائی۔ اس کا اُسے اتنا صدمہ ہوا کہ بیمار ہو گیا۔ وہ امراء جن کو حال معلوم تھا جب اُس سے پوچھتے کہ میاں ! بتاؤ اب شہر کا کیا حال ہے؟ تو وہ کہتا شہر کنگال ہو گیا ہے، دنیا بھوکی مر رہی ہے آخر جس نے وہ تھیلی چھپائی تھی اُس نے لا کر اس کے سامنے رکھ دی اور کہا شہر کو بھوکا نہ مارو تم اپنی تھیلی لے لو۔ تو انسان کی عادت ہے کہ وہ دوسروں کا قیاس اپنے اوپر کرتا ہے۔ چور اسی خیال میں رہتا ہے کہ ساری دنیا چور ہے، ایک جھوٹا یہی سمجھتا ہے کہ ساری دنیا جھوٹی ہے، ایک فاسق و فاجر یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ دنیا میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ایک نکما اور بیکار شخص یہ نہیں جانتا کہ دنیا میں کام کرنے والے لوگ بھی ہیں وہ سب کو نکلتا اور بیکار خیال کرتا ہے۔ غرض دیواروں کے پیچھے کام کرنے والے کتنا ہی شاندار کام کریں ، کتنی محنت اور سرگرمی سے حصہ لیں ، کتنا وقت خرچ کریں پھر بھی ایک سکتے شخص کی نگاہ میں سب دنیا کمی ہوگی اور جب اُسے کسی کام کیلئے کہا جائے گا وہ کہے گا ہم نے سب دیکھے ہوئے ہیں ۔ بڑے بڑے آدمی بھی نکتے بیٹھے رہتے ہیں نہ کام کرتے ہیں نہ کار، مفت میں تنخواہیں لیتے ہیں ۔ تو کچھ کام ظاہر ہونے چاہئیں اور کچھ نہ کچھ لوگوں کے سامنے نمونہ ہونا چاہئے اس سے اُن کو تحریک ہو جاتی ہے اور وہ بھی اپنے ہاتھ سے کام کرنا کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے زمانہ میں ایک زمیندار شخص جس نے کبھی شہر نہیں دیکھا تھا اور نہ شہری تمدن سے واقف تھا ریاست کپورتھلہ کا رہنے والا تھا، ایک دفعہ یہاں آیا اور پھر لاہور اور امرتسر جانے کا اسے جو موقع ملا تو شہری زندگی دیکھ کر ایک دم اُس کی کایا پلٹ گئی اور اُس کے دل میں یہ شوق سمایا کہ میں شہری طرز رہائش اختیار کروں ۔ چنانچہ یہ جنون اُس میں یہاں تک بڑھا کہ وہ سیکنڈ کلاس کے بغیر ریل میں سفر نہیں کرتا تھا اور حالت یہ ہو گئی کہ جب وہ لاہور کے سٹیشن پر اتر تا تو رو مال یا چھتری قلمی کو دے دیتا اور کہتا میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اُس سے پوچھا کہ تم یہ کیا کرتے ہو ر و مال اور چھتری تک خود اُٹھا نہیں سکتے اور قلی کو دے دیتے ہو؟ کہنے لگا یہ فیشن ہے اگر فکی ساتھ نہ ہو تو انسان معزز نہیں سمجھا جاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کی ساری جائدا در گرو پڑی پھر اس کے بعد اُس نے جائداد بیچ ڈالی ، پھر اپنی بوڑھی ماں کو مار پیٹ کر